الْاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۲۱﴾ (پ۲۹،القیامة:۲۰تا۲۱)
دوست رکھتے ہو اور آخرت کو چھوڑے بیٹھے ہو۔
(2)... اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوۡنَ الْعَاجِلَۃَ وَ یَذَرُوۡنَ وَرَآءَہُمْ یَوْمًا ثَقِیۡلًا ﴿۲۷﴾ (پ۲۹، الدھر:۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک یہ لوگ پاؤں تلے کی عزیز رکھتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو چھوڑے بیٹھے ہیں۔
(3)... فَاَعْرِضْ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ﴿ؕ۲۹﴾ ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ (پ۲۷، النجم:۲۹تا۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان: تو تم اس سے منہ پھیرلو جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے۔
حقیقی بادشاہت:
مخلوق میں پھیلے شیطان کے مَکْر وفَریب سے بچانے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رسولوں کی طرف فَرشتوں کے ذریعے وحی فرمائی جو دشمن اور اس کے دھوکے کو ہلاک و برباد کرنے کے لئے مکمل طور پر کافی ہے۔ پھر اس مجازی بادشاہت کہ جسے حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں اور اگر اسے حقیقت شمار کر بھی لیا جائے تو بھی اسے دوام نہیں، حضراتِ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام نے مخلوق کو اس سے پھیر کر حقیقی بادشاہت کی دعوت دی جیساکہ قرآن پاک میں موجود ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَا لَکُمْ اِذَا قِیۡلَ لَکُمُ انۡفِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَی الۡاَرْضِ ؕ اَرَضِیۡتُمۡ بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا مِنَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۳۸﴾ (پ۱۰، التوبة:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو تمہیں کیا ہوا جب تم سے کہا جائے کہ راہ ِخدا میں کوچ کرو تو بوجھ کے مارے زمین پر بیٹھ جاتے ہوکیا تم نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے پسند کرلی اور جیتی دنیا(دنیا کی زندگی) کا اسباب آخرت کے سامنے نہیں مگر تھوڑا۔
پس توریت، انجیل، زُبور، قرآن مجید، حضرت سیِّدُنا موسیٰ اور حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِمَا الصَّلوٰۃُ وَالسَّلَام کے صحیفےاور دیگر تمام آسمانی کُتب مخلوق کو حقیقی اور ہمیشہ رہنے والی بادشاہت کی طرف دعوت دینے کے لئے