سعادت، ایسی بقا جس میں فنا نہیں، ایسی عزت جس کے بعد ذِلَّت نہیں، ایسا اَمَن جس کے بعد خوف کا شائبہ تک نہیں، ایسی مال داری جس کے بعد محتاجی نہیں اور ایسا کمال جس کے بعد نقصان نہیں۔ جب یہ تمام اُمور حاکمیت ہی کے اوصاف ہیں تو انہیں طلب کرنے والا قابلِ مَذمَّت نہیں بلکہ یہ تو بندے کا حق ہے کہ ایسی بادشاہت طلب کرے جس کی انتہا نہ ہو اور طالِبِ بادشاہت درحقیقت رِفعت، عزت اور کمال کا طالب ہوتا ہے۔ بادشاہت دو طرح کی ہے:(۱)… وہ جو جلد حاصل ہو لیکن تکالیف سے بھرپور ہو اور جلد ہی ختم ہوجائے،یہ دنیاوی بادشاہت ہے۔ (۲)…وہ جو دیر سے حاصل ہو لیکن ہمیشہ ہمیشہ رہے ، نہ اس میں تکالیف ہیں نہ ہی اسے کوئی چیز ختم کرسکتی ہے۔
انسان چونکہ جلدباز اور جلدی کی طرف رغبت رکھنے والا پیدا کیا گیا ہے لہٰذا شیطان انسان کی طبیعت میں شامل اسی جلدبازی کو وسیلہ بناکر اسے دھوکے میں مبتلا کرتا اور دنیاوی بادشاہت کو اس کے سامنے مُزَیَّن کرکے پیش کرتا ہے اور انسان کی بے وُقوفی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی دھوکے اور دنیاوی بادشاہت کے بدلے اُس سے آخرت کی بادشاہت کا وعدہ کر لیتا ہے۔ دو جہاں کے تاجْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:
”بے وُقوف ہے وہ شخص جو خواہِشِ نفس کی پیروی کرے اورپھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےاُمید رکھے۔“(1)
لہٰذا رحمَتِ الٰہی سے دور شخص دھوکے میں رہتے ہوئے اپنی تمام تر کوشش دنیاوی عزت و بادشاہت طلب کرنے میں صرف کردیتا ہے اور جسے توفیق عطا کی جائے وہ شیطان کے دھوکے میں نہیں آتا کیونکہ وہ شیطان کے مکر وفریب کو خوب جانتا ہے،لہٰذا وہ اس جلدی ملنے والی بادشاہت سے اِعراض کرتا ہے۔
دنیا کے طلب گاروں کی قرآن میں مَذمَّت:
رحمتِ الٰہی سے دور شخص کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
(1)... کَلَّا بَلْ تُحِبُّوۡنَ الْعَاجِلَۃَ ﴿ۙ۲۰﴾ وَ تَذَرُوۡنَ
ترجمۂ کنز الایمان: کوئی نہیں بلکہ اے کافرو تم پاؤں تلے کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی ، کتاب صفة القیامة ، باب۲۴،۴/ ۲۰۷،حدیث : ۲۴۶۷،’’العاجز ‘‘بدلہ ’’الاحمق‘‘
غریب الحدیث لابن سلام،دین،۱/ ۴۳۸،مطبوعہ دارالکتب العلمیہ۱۴۲۴ھ