(3)… وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۷﴾ (پ۲۷،القمر:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بےشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔
وسوسوں اور دلی رُکاوٹوں سے صَبْر کا یہی علاج ہے اور یہ صبر کا انتہائی دَرَجہ ہے اور صبر کی اقسام میں مخلوق سے صبر(دور ہونے) کی تمام اقسام دل کے وسوسوں سے صبر(محفوظ رہنے) سے کم تر ہیں۔ اسی لئے حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے فرمایا:”مومن کے لئے دنیا سے آخرت کی طرف سفر کرنا آسان ہے مگر حق تعالیٰ کی محبت میں مخلوق سے تعلق توڑنا مشکل ہے اور نفس کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ کرنا اور خواہشات کو چھوڑ کر اطاعتِ الٰہی پر صبر کرنا اس سے بھی زیادہ دشوار ہے۔“
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ دل کو دُنیاوی مَشاغِل سے دور کرنا مشکل ہے اور محبَّتِ الٰہی میں مخلوق کو چھوڑدینا اس سے زیادہ مشکل ہے اور انسان پر سب سے زیادہ مشکل چیز یہ ہے کہ مخلوق سے تمام تعلقات اور خود پسندی ختم کرے ۔ ریاست، غلبہ اور بلندی حاصل کرنے اور دوسروں پر حکم چلانے میں ایسی لذت ہے جو دنیا کے طلبگاروں کے نزدیک دوسری تمام چیزوں پر غالب ہے اور کیوں نہ ہو کہ اُن کا مطلوب اللہ عَزَّ وَجَلَّکی صفات میں سے ایک صفت یعنی حاکمیت ہے اور دل کو طبعی طور پر حاکمیت محبوب و مطلوب ہے کیونکہ یہ اُمور حاکمیت کے لائق ہیں جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ (پ۱۵، بنی اسرآئیل:۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے۔
دل صِفَتِ حاکمیت سے محبت کے سبب قابلِ مَذمَّت نہیں بلکہ اس طریقے کے سبب قابلِ مَذمت ہے جسے اس نے شیطان مَلْعُون کے دھوکے میں آکر اختیار کیا کیونکہ شیطان کو عالَمِ اَمَر سے دھتکارا جاچکا ہے اور انسان عالَمِ اَمَر میں ہے، لہٰذا شیطان انسان کو گمراہ کرتا اور دھوکے میں مبتلا کرتا ہے۔
حاکمیت وبادشاہت کی اقسام:
صِفَتِ حاکمیت سے مَحبت پر دل قابلِ َمذمَّت کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس کا مطلوب یہ اُمور ہوں: آخرت کی