Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
231 - 882
 بارش کے نہیں گزرا۔ یونہی کوئی سال، مہینہ اور کوئی دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل و خزانے سے خالی نہیں۔
	بندے کو بھی چاہئے کہ اپنے دل کو خواہشات کی گھاس سے پاک کرے اور اس میں ارادہ اور اخلاص کا بیج بوکر اسے رحمت کی ہواؤں کے لئے پیش کردے۔ جس طرح موسِمِ بہار آنے اور بادل چھا جانے پر بارش کا انتظار شدت اختیار کرجاتا ہے ایسے ہی اچھا دن آنے، تمام ہمتوں کے جمع ہوجانے اور دل کی مدد شامل ہونے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانوں کی اُمید بھی بڑھ جاتی ہےجیساکہ عرفہ، جمعہ اور رمضان کے دنوں میں کیونکہ ہمتیں اور دل بحکم الٰہی نُزولِ رحمت کے اَسباب میں سے ہیں حتّٰی کہ ان کے سبب قحط سالی میں بھی بارش ہوجاتی ہے اور یہ سب بارش ہونے کے مُکاشَفاتِ الٰہیہ اور اُن لطائِفِ الٰہیہ میں سے ہیں جو سلطنت کے خزانے ہیں اور بارش برسنا اور پہاڑوں اور سمندروں کے کناروں سے بادل بننا انہی کے دم سے ہے۔
	یہ اَحوال و مُکاشَفاتِ الٰہیہ ہر انسان کے دل میں موجود ہیں لیکن انسان دنیاوی تعلقات اور خواہشات کے سبب ان سے غافل ہے تو یہ دونوں چیزیں انسان اور مُکاشفاتِ الٰہیہ و احوال کے درمیان پردہ ہیں۔ انسان محتاج ہے کہ شہوت ختم کردی جائے اور پردے اٹھادیے جائیں تاکہ اس کا دل  مَعارف کے انوار سے روشن کردیا جائے کیونکہ تنگ گھڑے سے پانی نکالنا کسی دُوردَراز پسماندہ علاقے سے پانی لانے کے مقابلے میں آسان ہے اور مَعارفِ الٰہیہ انسان کے دل میں موجود ہیں بس انسان ان سے غافل ہے۔
معارفِ ایمان کے متعلق تین فرامین باری تعالیٰ:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمام معارفِ ایمان کو لفظ ”ذکر“ کے ذریعے بیان فرمایا ہے:
(1)…  اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹﴾ (پ۱۴،الحجر:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔
(2)… وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ﴿۲۹﴾ (پ۲۳،ص:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور عقلمند نصیحت مانیں۔