Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
230 - 882
ربّ تعالیٰ کے خزانوں کا حق دار کون؟
	بہرحال احوال و اعمال میں حاصل ہونے والے لُطفِ الٰہی اور کشف وظُہور کی مقدار کا اندازہ کرنا شکار کرنے اور رزق حاصل کرنے کی طرح ہے کہ بعض اوقات تھوڑی سی کوشش سے بڑا شکار ہاتھ لگ جاتا ہے اور کبھی انتھک محنت کے باوُجود بہت تھوڑا حصہ ملتا ہے، اس مُعاملے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل پر بھروسا کرنا چاہئے کہ وہی تمام اعمال کا بدلہ دینے والا ہےکیونکہ یہ مُعاملہ بندے کے اختیار میں نہیں البتہ  بندے کو اتنا اختیار ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل تلاش کرتا رہے اس طرح کہ دنیا کی طرف مائل کرنے والی چیزوں کو اپنے دل سے نکال دے کہ دنیا میں مشغول رہنے والا اَسْفَلُ السَّافِلِیْن(یعنی سب سے نچلے طبقے کے انسانوں) میں شمار کیا جاتا ہے نہ کہ اَعْلٰی عِلِّیِّیْن(یعنی بلند مرتبہ لوگوں) میں اور دنیاوی فکریں انسان کو دنیاوی مشغولیت کی  طرف لے جاتی ہیں  حالانکہ دنیا کی طرف مائل کرنے والی چیزوں سے دل کو پاک رکھنا ہی اِس حدیث پاک سے مراد ہے۔ چنانچہ رحمَتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کامُبارَک فرمان ہے:”تمہارے زمانوں میں تمہارے ربّعَزَّ  وَجَلَّ کے خزانے و تجلیات ہیں (دل کی پاکی اور تزکیہ نفس کے ذریعے) انہیں تلاش کرو۔“(1)
	یہ اس لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل اور خزانوں کے اسباب آسمان ہیں۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾ (پ۲۶، الذٰریٰت:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور آسمان میں تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے۔
	یہ رزق کی اعلیٰ ترین قسم ہے اور آسمانی اُمور ہم پر پوشیدہ ہیں معلوم نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ رزق کے اسباب کب آسان کردے لہٰذا ہمیں چاہئے کہ دل کو خالی رکھیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اور اس کے لُطف و کرم کے اُس کاشتکار کی طرح منتظر رہیں جو زمین دُرُست کرتا اور اسے اضافی گھاس وغیرہ سے پاک کرتا اور اس میں بیج بوتا ہے اور یہ تمام کام بارش ہونے پر ہی نفع بخش ہیں اور وہ جانتا بھی نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کس وقت بارش کے اَسباب پیدا فرمائے گا لیکن اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل و رحمت پر کامل بھروسا ہے کہ کوئی سال بغیر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… المعجم الاوسط ،۲/ ۱۵۵،حدیث : ۲۸۵۶