Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
23 - 882
 شہتیر کی طرح بلکہ وہ تو پھیلے ہوئے موٹے چمڑے کی مانند ہوتا ہے۔“
	پس ان میں سے ہرایک نے ایک اعتبار سے سچ کہا کیونکہ ہرایک نے ہاتھی کی جتنی پہچان حاصل کی اتنی ہی خبردی اورکسی نے بھی ہاتھی کی صِفَت بتانے میں تجاوز نہیں کیا لیکن مجموعی طور پر وہ ہاتھی کی صورت کی حقیقت کا احاطہ کرنے سے قاصر رہے۔ اس مثال کو سامنے رکھ کر اس پر قیاس کیجئے کیونکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ان میں سے اکثر کی یہی مثال ہے۔ اگرچہ یہ  کلام عُلُومِ مُکا شَفہ کوچھورہا ہے اور اس کی مو جوں کو حَرَکت دے رہا ہے مگرہما ری یہ غرض نہیں ہے لہٰذا ہم اپنے مقصد کی طر ف آتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ تو بہ اپنے تینو ں اجزا عِلْم، نَدامت اور ترکِ گنا ہ کے ساتھ واجب ہے۔ ندامت وُجوب میں اس وجہ سے داخل ہے کہ یہ من جملہ ایسے اَفعالِ اِلٰہی میں واقع ہوتی ہے جو بندے کے علم، اس کے ارادہ  اور اس کی قدرت کے درمیان ہوتے ہیں اور جس کی صفت یہ ہو ”وجوب“ کانام اسے شا مل ہوتا ہے ۔
تیسری فصل:				توبہ فوری واجب ہونے کا بیان
	توبہ کے فوری واجب ہو نے میں کوئی شک نہیں کیونکہ گناہوں کےہلاکت خیز ہونے کی پہچان حاصل کرنا نفْسِ ایمان سے ہے اور وہ فوراً واجب ہے۔ اس وجو ب کی تعمیل وہی شخص کرسکتاہے جو اس کوایسے جان لے کہ یہ ناروا باتوں سے روکنے والاہے۔ یہ مَعْرِفَت عَمَل سے لاتعلُّق عُلُومِ مُکا شَفہ میں سے نہیں بلکہ یہ علوم مُعامَلہ میں سے ہے اور ہر وہ علم جس سے یہ اراداکیاجائے کہ وہ عمل کا باعث بنے ،اس سے سبکدوشی  اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وہ عمل کا باعث نہ بنے۔ گنا ہو ں کے نقصان دہ ہونے کا علم اس لئے مقصود ہوتا ہے کہ وہ گنا ہ چھوڑنے کا باعث بنے تو جو شخص اسے نہیں چھوڑتا وہ ایمان کے اس جز سے محروم ہے۔ درج ذیل  فرمانِ مصطفٰے سے یہی مراد ہے۔چنانچہ،
	حضورسیِّدِعالَم،نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرما یا:”لَایَزۡنِی الزَّانِی حِیۡنَ یَزۡنِی وَھُوَ مُؤمِنٌ یعنی زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مو من نہیں ہوتا۔‘‘(1)
	اس فرمانِ عالی میں ایمان کی نفی کا ارادہ نہیں فرمایاجوکہ عُلُومِ مُکاشَفہ کی طرف لوٹتی ہے جیسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری ، کتاب المحاربین من اھل الکفر ، باب اثم الزناة،۴/ ۳۳۸، حدیث : ۶۸۱۰