ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف مائل ہونا بھی اسی وقت فائدہ دے گا جبکہ تمام تر توجہ کا مرکز ذاتِ خداوند ہو اور باطن کے ذریعے زمینی وآسمانی سلطنتوں کی سیر کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیدا کردہ عجائبات اور اس کی مَعرِفت کے تمام دروازوں سے واقف ہو۔ جب یہ سب کچھ اس کے دل پر غالب آجائے گا تو اسے شیطان کے وسوسوں اور اس کے فریب سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ اگر انسان اس مرتبہ کو نہ پہنچ سکے کہ باطن کے ذریعے سیر کرے تو اس کی نجات اسی میں ہے کہ ہروقت ذکر و اذکار یعنی نماز اور تلاوت وغیرہ میں مشغول رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حُضورِ قلب کا بھی محتاج ہے کیونکہ حُضورِ قلب فکرِ باطن کے ذریعے حاصل ہوتا ہے نہ کہ ظاہری اَوراد سے۔
ذکروفکر میں خلل ڈالنے والی باتیں:
جب انسان اکثر وقت ذکر واذکار میں مشغول رہے گا تو اس کے پاس تھوڑا ہی وقت بچے گا کیونکہ دن بھر میں بہت سے ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اس کے فکر و اذکار میں خلل پیدا کردیں گے مثلاً کسی مَرَض یا خوف کا لاحق ہونا، کسی کی طرف سے تکلیف پہنچنا اور کسی کا اس کی مرضی کے خلاف کام کرنا جبکہ اس کا ان لوگوں سے ملنا بھی ضروری ہے جو اسبابِ معیشت میں اس کی مدد کرتے ہیں۔
ذکر وفکر میں خلل پیدا کرنے والی مختلف اقسام میں سے یہ ایک قسم ہے۔اس سے بھی زیادہ ضروری ایک اور قسم ہے اور اس سے مراد کھانا، پہننا اور اسبابِ مَعاش میں مشغول ہونا ہے کیونکہ ان کاموں کے لئے بھی وقت درکار ہوتا ہے جبکہ خود کفیل ہو اور اگر یہ کام کسی اور کے سپرد کئے ہوں تو بھی اس کی کفالت باطنی فکر میں خلل پیدا کرے گی۔ ہاں تمام تعلقات ختم کرنے کے بعد اسے زیادہ وقت مل سکتا ہے جبکہ کوئی دردناک واقعہ اچانک پیش نہ آجائے اور جب دل ہرفکر سے پاک و صاف رہے گا تو اس کے لئے باطنی فکرآسان ہوجائے گی اور زمین وآسمان میں پائے جانے والے وہ اَسرارِ الٰہی اس پر ظاہر کردیئےجائیں گے کہ اگر دل کو دنیاوی تعلقات میں مشغول رکھا جائے تو عرصَۂ دراز تک اس کا عُشْرِعَشِیر(یعنی معمولی حصہ) بھی حاصل نہیں ہوسکتا اور یہ مرتبہ انسان کی کوشش و محنت سے حاصل ہونے والے مقامات و مراتب کی انتہا اور حد ہے۔