Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
228 - 882
 روز انسان کامیابی کا مزہ چکھ لے۔ پھر یہ غَلَبہ برقرار رکھے تو باعثِ ہَوٰی کے مقابلے میں اس کی قوت بڑھ جائے گی کیونکہ اعمالِ شاقہ کا عادی ہونا اس قوت کو پختہ کردیتا ہے جس سے یہ اعمال صادر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بوجھ اٹھانے والوں، کشتی چلانے والوں اور جنگ کرنے والوں کی قوت زیادہ ہوتی ہے اور عموماً جو اعمالِ شاقہ کے عادی ہوتے ہیں ان میں درزی، عطر فروش، فقہا اور نیک لوگوں کے مقابلے میں زیادہ قوت ہوتی ہے کیونکہ ان اعمال کا عادی ہونے سے قوت میں مضبوطی نہیں آتی۔
	بیان کردہ دونوں طریقوں میں سے پہلے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کو مال و متاع اور عزت کا لالچ دے کر کسی کے مقابلے پر ابھارنا جیساکہ فرعون نے جادوگروں کو یہ لالچ دے کر حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مقابلے پر اتارا تھا کہ غالب آنے کی صورت میں تم میرے مقرب ہوجاؤ گے۔
	دوسرے کی مثال بچے کے لئے مقابلے اور جنگ کے اسباب مہیا کرنے کی سی ہے تاکہ بچہ اس کا عادی ہو، اس کی طرف مائل ہو اور اسے ان کاموں میں مہارت حاصل ہوجائے۔
	جو شخص صبر کے ذریعے خواہش کی مخالَفَت کرنا بالکل ترک کردے تو اس میں باعثِ دینی(یعنی نیکی کی طرف مائل کرنے والی قوت) کمزور پڑجاتی ہے اور ایسا انسان خواہشات پر غَلَبہ نہیں پاسکتا اگرچہ وہ کمزور ہوں اور جو اپنے نفس کو خواہشات کی مخالَفَت کا عادی بنالے وہ جب چاہے ان پر غَلَبہ پاسکتا ہے۔
	صبر کی تمام اقسام میں علاج کا یہی طریقہ رائج ہے اور اسے مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں۔
مشکل ترین صبر:
	یقیناً سب سے مشکل ترین صبر وسوسوں سے باطن کا پاک ہونا ہے۔ یہ کام اُس کے لئے زیادہ مشکل ہے جو تنہائی و گوشہ نشینی کے ذریعے اور مراقَبے اور ذِکر وفِکر کے لئے بیٹھ کر ظاہری خواہشات کو تو ختم کردے لیکن وسوسوں سے نہ بچ سکے۔ وسوسے انسان کو بھٹکاتے رہتے ہیں ان سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ ظاہری باطنی تمام تعلقات ختم کردے اپنے اہل، اولاد، عزت ومال، دوست ، احباب سب کو چھوڑ دے اور بقدرِ ضرورت کھانا لے کر ایک کونے میں بیٹھ جائے اور اسی پر قناعت کرے۔
	یہ سب کچھ اسی وقت فائدہ دے گا جبکہ اس کا مقصود صرف اور صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہو اور دل کا