Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
227 - 882
 دینے کی وجہ سے چونکہ انسان کو اعمال کی ادائیگی میں کمزوری ہوجاتی ہے لہٰذا اس کے ذریعے اکثر لوگ شہوات کا خاتِمہ کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حُضورِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: (نوجوانو!)نکاح کرو، جو اس کی طاقت نہ رکھے اسے چاہئے روزے رکھے کہ روزہ شہوت ختم کردیتا ہے۔(1)
	علاج کی یہ تین صورتیں بنتی ہیں:پہلا علاج یعنی کھانا چھوڑ دیا جائے اس کو یوں سمجھئے کہ سرکش جانور اور نقصان پہنچانے والے کتے کو کھانا نہ دیا جائے تووہ بھی کمزور ہوجاتا ہے اور اس کی طاقت ختم ہوجاتی ہے۔ دوسرے علاج کو یوں سمجھئے کہ اگر کسی کتے کے سامنے سے گوشت اور گندم کھانے والے جانور کے سامنے سے گندم ہٹا لیا جائے تو نہ وہ اسے دکھائی دے گا نہ اس کی خواہش بھڑکے گی۔ تیسرے علاج کو یوں سمجھئے کہ جانور کی طبیعت جس چیز کی طرف مائل ہے اگر اس میں سے کچھ دے دیا جائے تو اس میں صبر کی قوت باقی رہتی ہے۔
باعث دینی کو تقویت دینے کے طریقے:
	باعِثِ دینی کو تقویت دینے کے دو طریقے ہیں:
٭…پہلا طریقہ: یہ ہے کہ انسان  مجاہدے کے دینی و دنیوی  فوائد و ثَمَرات کی طَلَب میں رہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ صبر کی فضیلت اور دنیا وآخرت کے بہتر انجام کے متعلق جو رِوایات ذکر کی گئیں ان میں خوب غور وفکر کرے۔ مروی ہے کہ مصیبت پر صبر کا ثواب فوت شدہ چیز پر صبر کرنے سے زیادہ ہے۔ یقیناً ایسا مصیبت زدہ شخص قابل رشک ہے کیونکہ فوت شدہ چیز صرف دنیاوی زندگی میں اس کے پاس تھی جبکہ اس پر حاصل ہونے والا صبر کا ثواب موت کے بعد ہمیشہ ہمیشہ اس کے پاس رہے گا اور جو شخص کمتر چیز دے کر بہتر چیز لے اسے زیب نہیں دیتا کہ کمتر چیز کے فوت ہونے پر غمزدہ ہو۔اس کا تعلق مَعْرِفَت سے ہے جسے ایمان کہا جاتا ہے کبھی یہ کمزور ہوتا ہے کبھی پختہ۔ اگر ایمان پختہ ہو تو باعثِ دینی کو بھی تقویت دیتا اور غالب کرتا ہے اور اگر یہ خود کمزور ہو تو اسے بھی کمزور کردیتا ہے کیونکہ قوتِ ایمانی درحقیقت یقین ہے اور یہی صبر کا مُحَرِّک ہے اور بہت تھوڑے لوگ ہیں جنہیں یقین اور صبر دونوں عطا کئے گئے ہیں۔
٭…دوسرا طریقہ: یہ ہے کہ باعِثِ دینی کو باعِثِ ہَویٰ سے مقابلے کا عادی بنایا جائے یہاں تک کہ ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی ، کتاب النکاح ، باب ماجاء فضل التزویج والحث علیہ ،۲/ ۳۴۳، حدیث : ۱۰۸۳