Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
225 - 882
 انسان کے دل میں پیدا ہونے والی خواہش شیطان کے لئے ایسی ہے جیسے آگ کے لئے خشک گھاس اور جب تک لکڑی رہتی ہے آگ بھی جلتی رہتی ہے لہٰذا جب خواہش نہ رہے گی تو شیطان کو موقع بھی نہ مل سکے گا۔
سیِّدُناحسین بن منصور حلاج عَلَیْہِ الرَّحْمَہکا نصیحت آموز قول:
	جب تم غور وفکر کروگے تو جان لوگے کہ تمہاری سب سے بڑی دشمن خواہش ہے جو کہ نفس کی صِفَت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسین بن منصور حلاج عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد کو پھانسی دیتے وقت جب تصوف کے بارے میں سوال کیا گیاتو آپ نے فرمایا:”یہ  تمہارا نفس ہے اگر تم اسے مشغول نہ رکھو گے تو یہ تمہیں مشغول کردے گا۔“
	معلوم ہوا کہ صبر کی حقیقت اور اس کاکمال یہ ہے کہ ہر مذموم حرکت سے باز رہا جائے اور باطنی حرکت سے باز رہنا صبر کی بہترین قسم ہے اور یہ اگر بندے کو حاصل ہوجائے تو موت ہی اسے ختم کرتی ہے۔ 
ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس کے احسان و کرم کے صدقے بہتر توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
ساتویں فصل:	صبر پر مدد کرنے والی روحانی دوا
	جان لیجئے کہ جس ذات نے بیماری پیدا کی اس نے دوا بھی اتاری ہے اور شفا کا وعدہ بھی فرمایا ہے تو صبر اگرچہ دُشوار ہے لیکن اس کا حُصول علم و عمل کے ذریعہ ممکن ہے۔ دل کے تمام امراض کی دوائیں علم وعمل  کے اختلاط سے وجود میں آتی ہیں لیکن ہر مرض ایک نئے علم و عمل کا محتاج ہے کیونکہ صبر کی اقسام مختلف ہیں تو اس سے روکنے والی اشیاء (یعنی بیماریاں) بھی مختلف ہوں گی اور جب بیماریاں مختلف ہوں تو عِلاج بھی مختلف ہوں گے کیونکہ علاج بیماری کی ضد اور اسے ختم کرنے والا ہے۔ یہ بحث چونکہ بہت طویل ہے لہٰذا ہم مثالوں کے ذریعے اس کے طریقے بیان کریں گے۔
	انسان ہم بستری کی خواہش سے اس وقت صبر کا محتاج ہوتا ہے کہ جب غَلَبَۂ خواہش کے سبب شرم گاہ کی حفاظت مشکل ہوجائے یا شرم گاہ تو محفوظ رہے لیکن آنکھ کی حفاظت مشکل ہوجائے یا آنکھ تو محفوظ رہے لیکن دل اور نفس سے اختیار جاتا رہےاور یہ بُری باتوں کی کثرت کی وجہ سے ہوتا ہے جو انسان کو ذکر وفکر اور نیک اعمال سے غافل کردیتی ہیں۔