Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
224 - 882
 وسوسوں میں مبتلا کرتا رہے گا۔اس سے بچنے کی یہی صورت ہے کہ صرف ایک غم کو اپنالو اور اپنا دل یاد ِالٰہی میں مشغول کرلو تو وہ ملعون ہرگز تمہیں نہیں بہکا سکے گا اور اس وقت تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں میں سے ہوجاؤگے جو اس ملعون کے جال سے محفوظ ہیں۔
	تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ (یادِالٰہی سے) غافل دل شیطان کے اثر سے بھی خالی رہتا ہےکیونکہ  شیطان انسان  کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتا ہےاور یہ گردش ایسی ہے جیسے ہانڈی میں ہوا کہ اگر تم پانی یا کوئی چیز ڈالے بغیر اس سے ہوا نکالنا چاہو تو نہ نکلے گی اور تمہاری یہ خواہش بےجا ہے بلکہ ہانڈی جتنی پانی سے خالی ہوگی اتنی مقدار میں ہوا اس میں ضرور ہوگی۔ اسی طرح جو دل دینی فکر میں مشغول رہے وہ شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہتا ہے اور جو لمحہ بھر بھی یادِالٰہی سے غافل ہوتا ہے اس لمحے اس کا ساتھی شیطان ہوتا ہے۔ جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنۡ یَّعْشُ عَنۡ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ ﴿۳۶﴾ (پ۲۵، الزخرف:۳۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جسے رَتُوند(اندھا بننا) آئے رحمٰن کے ذکر سے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے۔
فارغ دل شیطان کا گھونسلا بن جاتا ہے:
	سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ اللہ تَعَالٰی یُبْـغِضُ الشَّابَ الفَارِغ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ فارغ نوجوان کو نا پسند کرتا ہے۔ (1)
	یہ اس وجہ سے فرمایا گیا کہ جب انسان جوانی کی حالت میں ایسے جائز اعمال چھوڑ دیتا ہے جن کے ذریعہ وہ دین پر مدد حاصل کرسکےتو بظاہر وہ  فارغ ہوجاتا ہے لیکن اس کا دل فارغ نہیں رہتا بلکہ شیطان اس میں گھونسلا بناتا اور انڈے دیتا ہےپھر اس کے بچے بڑے ہوکریہی عمل کرتے ہیں اور اس طرح شیطان کی نسل چلتی رہتی ہے۔تمام حیوانات میں اس کی نسل تیزی سے بڑھتی ہے کیونکہ اس کی پیدائش آگ سے ہے اور جب تک خشک گھاس(یعنی خواہش) پائی جائے گی اس وقت تک اس کی نسل میں یونہی اضافہ ہوتا رہے گا اور آگ بڑھتی رہے گی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الزھد لابن المبارک، باب اصلاح ذات بین، ص ۲۵۶، حدیث : ۷۴۱،بتغیرقلیل