شیطان کے گروہ:
شیطان کے دو گروہ ہیں:(۱)…اُڑنے والا(۲)…چلنے والا۔ اُڑنے والے گروہ سے مراد وسوسے ہیں اور چلنے والے گروہ سے مراد خواہشات ہیں۔
یہ اس وجہ سے ہے کہ شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے جیسے ٹھیکری۔ اور ٹھیکری میں آگ کے ساتھ مٹی جمع کردی گئی اور مٹی کی طبیعت میں سکون ہے اور آگ کی طبیعت میں حرکت، آگ کا شعلہ بغیر حرکت کے نہیں پایا جاسکتا کیونکہ حرکت کرنا اس کی طبیعت میں شامل ہے۔ جب آگ سے پیدا کئے گئے شیطان ملعون کو حکم دیا گیا کہ ساکن ہوجائے اور جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مٹی سے پیدا کیا ہے اُسے سجدہ کرے تو شیطان نے تکبر کرتے ہوئے انکار کردیا اور نافرمانی کی اور اپنی نافرمانی کا جو سبب بیان کیا اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا: خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۱۲﴾ (پ۸، الاعراف:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اُسے مٹی سے بنایا۔
جب اس ملعون نے ہمارے جدِّ اَمجد حضرت سیِّدُنا آدمصَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سجدہ نہ کیا تو وہ ان کی اولاد یعنی ہمارا بھی کبھی فرمانبردار نہیں ہوسکتا البتہ شیطانی خیالات اورخواہشات کو دور کیا جائے تو شیطان عاجز ومطیع ہوجاتا ہے اور یہ عاجز ومطیع ہونا ہی اس کی طرف سے (ہمارے حق میں) سجدہ اور سجدے کی حقیقت ہے ورنہ پیشانی کا زمین پر رکھ دینا تو ایک کیفیت ہے جسے اصطلاحاً سجدے کا نام دے دیا گیا ہے اور اگر اسی کیفیت کا نام اصطلاح میں گستاخی رکھ دیا جائے تو اسی کو گستاخی تصور کیا جائے گا جیساکہ کسی قابِل اِحْتِرام انسان کے سامنے منہ کے بل لیٹ جانے کو گستاخی سمجھا جاتا ہے۔
شیطان کے جال سے حفاظت:
اشیاء کی حقیقت، روح اورمَغْز کا چھلکا تمہیں غافل نہ کردے کہ تم ان لوگوں میں سے ہوجاؤ جو دنیا میں مشغول ہوکر آخرت کو بھول جاتے ہیں۔ یقیناً شیطان کو مہلت دی جاچکی ہےاور وہ قیامت تک تمہیں