Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
222 - 882
	سن لو! جب انسان مصیبتوں پر ملنے والے اجر وثواب کا تصور کرکے تکلیف کو بھلا دیتا ہے تو وہ صبر کرنے والوں کا مقام پالیتا ہے۔ ہاں! بیماری، محتاجی اور دیگر تمام پریشانیاں ظاہر نہ کرنا ہی کمال صبر ہے۔ کہا گیا ہے:”مصائب وآلام اور صَدَقے کا چھپانا بھلائی کے خزانوں میں سے ہے۔“
	ان تفصیلات سے تم پر واضح ہوگیا ہوگا کہ ہرحالت وہرفعل میں صبر ضروری ہے۔
انسان تنہائی میں بھی صبر کا محتاج ہے:
	 جو شخص لوگوں سے علیحدگی اختیار کرکے تمام خواہشات سے محفوظ ہوجائے پھر بھی وہ ظاہر اور باطن میں صبر کا محتاج ہوتا ہے یوں کہ ظاہر میں گوشہ نشینی اور علیحدگی پر صبر کا محتاج ہے اور باطن میں شیطانی وسوسوں سے صبر(بچنے) کا محتاج ہے۔ دل کبھی سکون میں نہیں رہتا، اس کے اکثر خیالات گزری ہوئی اشیاء کے بارے میں ہوں گے جن کا تدارُک ممکن نہیں یا ان کا تعلق مستقبل کے ساتھ ہوگا حالانکہ وہ اگر مقدر میں ہے توضرور ملے گا پھر کیوں اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔
غافل انسان کا طرزِ زندگی:
	انسان کا دل آلہ ہے اور اس کی عمر اس کا سرمایہ۔ دل اگر لمحہ بھر اس ذکر و فکر سے غافل ہوگیا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف مائل کرنے والا، اس کی پہچان کروانے والا اور اس کی محبت پیدا کرنے والا ہے تو وہ نقصان میں ہے۔ یہ بھی اس وقت ہے کہ اس کی سوچ اور وسوسے جائز کاموں تک  محدود ہوں حالانکہ اکثر ایسا نہیں ہوتا بلکہ انسان خواہشات پوری کرنے کے حیلے بہانے تلاش کرتا رہتا ہے اسی لئے وه اپنی مرضی کے خلاف ذرا بھی حرکت کرنے والے شخص سے ساری زندگی جھگڑتا رہتا ہے۔اسی طرح اگر کسی سے کوئی ایسی بات ظاہرہو جس سے اُسے یہ وہم ہو کہ وہ اس سے جھگڑے گا اور اس کے کام یا اس کی مرضی کی مخالفت کرے گا تو ایسے ہر شخص سے بھی ساری زندگی جھگڑتا رہتا ہےبلکہ اس وہم کے باعث جو لوگ اس سے خالص محبت کرتے ہیں انہیں بھی اپنا مخالف سمجھتا ہے حتّٰی کہ اپنی اہلیہ اور اولاد کو بھی اپنا مخالف گمان کرتا ہے اور انہیں ڈانٹنے، ان پر غصہ کرنے اور اپنی مخالفت میں کی جانے والی باتوں کے جوابات میں غور وفکر کرتا رہتا ہے اور اپنی عمر انہی کاموں میں گزار دیتا ہے۔