Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
221 - 882
 کی تلاوت کرتے دیکھے۔
	حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ دو جہاں کے تاجْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میں نے دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ابوطلحہ کی زوجہ رُمَیْصاء موجود ہیں۔(1)
صبر ِجمیل کی تعریف:
	کہاگیا ہے:”صبْرِجمیل (بہترین صبر)یہ ہے کہ مصیبت میں مبتلا شخص کو کوئی نہ پہچان سکے(یعنی اس کی پریشانی کسی پر ظاہر نہ ہو)۔“البتہ! دل کا غمزدہ ہونا اور آنکھوں کا آنسو بہانا اسے صابرین کی فہرست سے خارج نہیں کرے گاکیونکہ  یہ معاملہ تو ہر انسان کے ساتھ ہے اورموت پر غمزدہ ہونا اور رونا تو ہرانسان کا بَشَری تقاضا ہے اور یہ انسان سے مرتے دم تک جدا نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ  جب رحمتِ عالَم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرزند حضرت سیِّدُنا ابراہیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا انتقال ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ عرض کی گئی: ”کیا آپ نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا؟“ ارشاد فرمایا:”یہ رحمت ہے بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ رَحم کرنے والے بندوں پر رحم فرماتا ہے۔“(2)
	بلکہ اس کی وجہ سے انسان رضا کے مرتبہ سے بھی نہیں نکلتا اور یہ ایسا ہی ہے کہ انسان پچھنے لگواتا(یعنی فاسد خون جسم سے نکلواتا) ہے اور اس پر راضی ہوتا ہے جبکہ معلوم ہے کہ اس سے تکلیف ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات تو درد کی شدت کی وجہ سے آنسو بھی جاری ہوجاتے ہیں۔عنقریباِنْ شَآءَاللہعَزَّ  وَجَلَّ”رضا کے بیان“ میں اس کی تفصیل آئے گی۔
	حضرت سیِّدُناابنِ ابی نجیحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کسی خلیفہ کو تعزیتی مکتوب میں لکھا:” جو شخص یہ بات جانتا ہے کہ جو کچھ اس سے لے لیا گیا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق تھا اسے چاہئے کہ جو کچھ اس کے پاس موجود ہے اس میں  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حق کی تعظیم کرے۔ جان لو کہ جو تم سے جدا ہوگیا وہ تمہارے لئے اس طور پر باقی ہے اور باقی رہے گا کہ اس پر تمہیں اجر دیا جائے گا اور جان لو کہ مصیبتوں پر صبر کا اجر عافیت میں ملنے والی نعمت سے بڑھ کر ہے۔“
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی، باب مناقب عمر بن خطاب،۲/ ۵۲۵،حدیث : ۳۶۷۹
2… بخاری، کتاب الجنائز ، باب قول النبی: یعذب المیت… الخ،۱/ ۴۳۴،حدیث : ۱۲۸۴