درجے سے خارج ہوجاتا ہے اور جب یہ تمام اُمور بندے کے اختیار میں ہیں تو اسے چاہئے کہ ان سے بچے، تقدیرِالٰہی پر راضی رہے،اپنی عادت کو جاری رکھے اور یقین رکھے کہ تمام چیزیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے امانت ہیں عنقریب واپس لے لی جائیں گی۔
سیِّدَتنا رُمَیصاء رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا صبر:
حضرت سیِّدَتُنااُمِّ سُلَیم رُمیصاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ میرے بیٹے کا انتقال ہوگیا اس وقت میرے شوہر حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر میں نہ تھے، میں اٹھی اور اسے گھر کے ایک کونے میں لٹا کر اوپر سے کپڑا اوڑھا دیا۔ شام کو جب حضرت ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ گھر تشریف لائے تو میں نے انہیں کھانا پیش کردیا۔ انہوں نے کھانا شروع کردیا اور کہا: بیٹے کی طبیعت کیسی ہے؟ میں نے کہا: اَلْحَمْدُلِلّٰہ بہت اچھی حالت ہے، بیماری کے وقت سے آج رات سکون میں ہے۔پھر میں نے ان کے لئے معمول سے زیادہ بناؤ سنگھار کیا حتّٰی کہ انہوں نے حَقِّ زوجیت ادا کیا۔ پھر میں نے کہا:کیا آپ کو پڑوسیوں پر تعجب نہیں؟ انہوں نے کہا:پڑوسیوں نے کیا کردیا؟میں نے کہا:انہوں نے بطورِامانت ایک چیز لی تھی جب میں نے ان سے واپس مانگی تو وہ شور کرنے لگے۔کہنے لگے:یہ تو انہوں نے بہت بُرا کیا۔اب میں نے کہا: آپ کا یہ بیٹا بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آپ کے پاس امانت تھا جو اس نے واپس لے لیا۔انہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا کی اور ” اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ (1)“ پڑھا۔ اگلے دن بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ عرض کردیا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے لئے یوں دعا فرمائی: اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ان کے لئے ان کی رات میں برکت عطا فرما۔(2)
راویِ حدیث فرماتے ہیں: اس واقعہ کے بعد میں نے ان کی اولاد میں سات لڑکے مسجد میں قرآن پاک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔(پ۲، البقرة:۱۵۶)
2…شیخ الحدیث حضرت علّامہ عبدا لمصطفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس روایت کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں:”اس دعائے نبوی کا یہ اثر ہوا کہ اسی رات میں حضرت بی بی ام سلیم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کے حمل ٹھہر گیا اور ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا اوران عبداللہ کے بیٹوں میں بڑے بڑے علماء پیدا ہوئے۔“کچھ آگے تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: دیکھو کہ صبر کا پھل خداوندکریم نے کتنی جلدی حضرت بی بی ام سلیم(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کو دیا کہ حضرت عبداللہ ایک سال پورا ہونے سے پہلے ہی پیدا ہوگئے اور پھر ان کا گھر عالموں سے بھر گیا۔(جنتی زیور،ص۵۱۷،۵۱۶،ملتقطاً )