کسی پر ظاہر نہیں فرماتا اور ظاہر پر تو ایسوں کو بھی مُطَّلَع کرتا ہے جو اس کے پسندیدہ نہیں۔
جس نے بھی اَسباب اور مُسبَّبات کے سلسلہ کوحَرَکت دی اور ان کے تسلسل کی کیفیت اور مُسبِّبُ الاَسباب (اللہ عَزَّ وَجَلَّ) سے اس کے ربط وتعلق کی وجہ معلوم کرلی اس پر تقدیر کا راز مُنکَشِف ہوجاتا ہے اور وہ اس بات کو یقینی طور پر جان لیتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی خالق نہیں اور نہ ہی اس کے علاوہ اشیاء کو بلانمونہ بنانے والا کوئی اور ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر کہا جائے کہ ابھی آپ نے کہا”انسان کو مجبورِ محض(یعنی بالکل بے بس) سمجھنے والے، بندے کو اپنے افعال کا خالق کہنے والے اور بندے کو صرف کاسِب ماننے والے تمام کے تمام ایک لحاظ سے سچے ہیں اور سچا ہونے کے ساتھ ان میں کوتاہی بھی ہے۔“یہ تو تناقُض ہے(یعنی آپ کی بات میں ٹکراؤ ہے)۔ اسے سمجھنا کیسے ممکن ہے؟ اور کیا کوئی ایسی مثال ہے جس سے سمجھنا ممکن ہو؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جی ہاں! ایسی مثال بالکل موجود ہے اور وہ یہ کہ نابینا لوگوں کے ایک گروہ نے سنا کہ شہر میں ہاتھی نامی ایک عجیب وغریب جانور لایا گیا ہے، انہوں نے نہ کبھی اس کے بارے میں سناتھا اور نہ ہی اس کی شکل وصورت کا مُشاہَدہ کیاتھا۔ کہنے لگے: ہمیں اس کا مشاہدہ کرنا چاہئے اورجہاں تک ہوسکے اسے ہاتھ لگاکر پہچاننا چاہئے۔ وہ ہاتھی کے پاس چلے گئے اور اُسے ہاتھوں سے ٹٹولا۔ کسی نابینا کاہاتھ اس کے پاؤں پر پڑا، کسی کا دانت پر اورکسی کاہاتھ اس کے کان پرپڑا۔پھرسب کہنے لگے”ہم نے ہاتھی کوپہچان لیاہے۔“جب واپس لوٹنے پر دیگر نابیناؤں نے ان سے ہاتھی کے بارے میں پوچھا تو اُن کے جوابات مختلف تھے۔ جس نے پاؤں کو چھوا تھا اس نے کہا:”ہاتھی کھردرے ستون کی طرح مگر اس سے کچھ نرم ہوتا ہے۔“جس نے اس کے دانت کو ہاتھ لگایا تھا اس نے کہا:”جیسا تم کہتے ہو ہاتھی ویسا نہیں ہوتا بلکہ وہ سخت ہوتا ہے نرم نہیں، چکنا ہوتاہے کُھردرا نہیں اور سُتُون کی طرح بالکل موٹا نہیں بلکہ شہتیر کی طرح ہوتا ہے۔“ جس نے اس کے کان کو چھوا تھا اس نے کہا:”میری زندگی کی قسم!ہاتھی نرم ہوتا ہے مگر اس میں کھردراپن بھی پایا جاتا ہے۔“ تو اِس نے پہلے دونوں میں سے ایک کی تصدیق کی مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا:”وہ نہ تو ستون کی طرح ہوتاہے، نہ ہی