Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
219 - 882
ہورہا؟فرمایا:اس کے ثواب کی مٹھاس نے میرے دل سے درد کی کڑواہٹ دور کردی۔
(11)…حضرت سیِّدُنا داؤد نے حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِمَا السَّلَام سے فرمایا : مومن کی پرہیزگاری پر تین چیزیں دلالت کرتی ہیں:(۱)…اس چیز کے بارے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر تَوَکُّل کرنا جو اس کے پاس نہیں (۲)…جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر راضی رہنا اور(۳)…جو اس سے لے لیا جائے اس پر صبر کرنا۔
(12)…سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جلالت اور اس کے حق کی مَعْرِفَت کا تقاضا یہ ہے کہ تم نہ اپنے درد کی شکایت کرواور نہ مصیبت کا ذکر کرو۔(1)
(13)…مروی ہے کہ ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ درہموں کی تھیلی لےکر باہر نکلے تو وہ تھیلی کسی نے چرالی۔ جب انہوں نے اسے نہ پایا تو فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص کے لئے اس میں برکت عطا فرمائے، شاید اسے مجھ سے زیادہ اس کی حاجت تھی۔
(14)…ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ دورانِ جنگ میں حضرت سیِّدُنا ابوحُذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے گزراتو آپ میں ابھی زندگی کی کچھ رَمَق باقی تھی۔ میں نے عرض کی: ”آپ کو پانی پلاؤں؟“ فرمایا: ”مجھے دشمن سے تھوڑا قریب کردو اور پانی میری ڈھال میں ڈال دو،میرا روزہ ہے اگر شام تک زندہ رہا تو پی لوں گا۔
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آنے والی آزمائش پر اس کے نیک بندے یونہی صبر کیا کرتے ہیں۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	بندہ مصائب و آلام میں صبر کا درجہ کیسے پاسکتا ہے؟ جبکہ وہ اس کے اختیار ہی میں نہیں، بندے کی دو ہی حالتیں ہیں یا قبول کرے یا انکار اور اگر صبر سے مراد یہ ہے کہ مصیبت کی نفرت انسان کے دل سے نکل جائے تو انسان کو اس کا بھی اختیار نہیں۔
	جواب:جان لیجئے!انسان مصیبت میں جَزع فَزع کرنے، گریبان پھاڑنے، گال پیٹنے، شکوہ شکایت کرنے، غم کا اظہار کرنے اور لباس، بچھونا اور غذا میں تبدیلی آجانے کی صورت میں صبرکرنے والوں کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… شعب الایمان  ، باب فی الصبر علی المصائب ،۷/ ۲۱۳،حدیث :۱۰۰۴۲،عن ابی الدرداءرضی اللہ عنہ موقوفًا، بتغیر