Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
218 - 882
پہناؤں گا جو کبھی نہ اتاروں گا۔
(7)…حضرت سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ بندے کو نعمت عطا فرماتا ہے پھر وہ نعمت اس سے واپس لے لیتا ہے اور اس کے بدلے صبر کی توفیق عطا فرماتا ہے تو جس چیزپر صبر کی توفیق اسے عطا فرمائی وہ اس چیز یعنی نعمت سے بہتر ہے جو اس سے واپس لے لی گئی۔ پھر آپ نے یہ آیتِ مُبارَکہ تلاوت فرمائی:
اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾ (پ۲۳، الزمر:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بےگنتی۔
(8)…حضرت سیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابسے صبر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:تقدیرِالٰہی پر راضی رہنا صبر ہے۔عرض کی گئی: اس کا علم کیسے ہو؟ ارشاد فرمایا:رضامند شخص بہتری کا خواہش مند نہیں ہوتا۔
(9)…ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کو بیماری کے باعث شفاخانہ  میں داخل کردیا گیا۔ چند لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:تم کون ہو؟انہوں نے عرض کی:آپ سے محبت کرتے ہیں آپ کی زیارت کو حاضر ہوئے ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انہیں پتھر مارنا شروع کردئیےتو وہ لوگ دور ہوگئے۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ”اگر تم مجھ سے محبت کرتے تو میری طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر ضرور صبر کرتے۔
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے پاس کاغذ کا ایک ٹکڑا رکھتے اور ہروقت اسے پڑھتے رہتے۔اس کاغذ میں یہ آیتِ مُبارَکہ لکھی ہوئی تھی: وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا (پ۲۷، الطور:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اے محبوب تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو کہ بےشک تم ہماری نگہداشت میں ہو۔
(10)…ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا فتح موصلی کی زوجہ محترمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کو کسی چیز سے ٹھوکر لگ گئی جس سے پاؤں کا ناخن ٹوٹ گیا لیکن آپ مسکرانے لگیں۔ عرض کی گئی:کیا آپ کو درد محسوس نہیں