یعنی صبر کے ساتھ خوشحالی کا انتظار کرنا عبادت ہے۔(1)
(3)…سیِّدِعالَم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے:جب مومن بندے کو مصیبت پہنچے تو حکْمِ الٰہی کے مطابق کہے:” اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ (2) “(پھر یوں دعا کرے:)”اللہمَّ اَجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَعْقِبْنِیْ خَیْرً ا مِّنْھَا یعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے اس مصیبت پر اجر اوراس سے بہتربدل عطا فرما۔“تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کو اس سے بہتربدل عطا فرمائے گا۔(3)
(4)…حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں:رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامسےاستفسار فرمایا:”جبریل! اُس بندے کی جزا کیا ہے جو دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہے؟انہوں نے عرض کی:پاکی ہے تجھے ہم صرف وہی جانتے ہیں جو تو نے ہمیں سکھایا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:”اس کی جزا میری جنت میں ہمیشہ رہنا اور میرا دیدار ہے۔“(4)
(5)…رحمَتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: میں جب کسی بندے کو آزمائش میں مبتلا کروں اور وہ صبر کرے اور اپنے ملنے والوں سے شکوہ نہ کرے تو میں اسے پہلے سے بہتر گوشت اور بہتر خون عطا فرماتاہوں اور جب اسے صحت عطا کرتا ہوں تو اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا اور جب اس کا انتقال ہوتا ہے تو میری رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔(5)
(6)…حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے رب عَزَّ وَجَلَّ! جو غمزدہ شخص تیری رِضا کی خاطر مصیبت پر صبر کرے اس کی جزا کیا ہے؟ارشاد فرمایا: ”میں اسے ایمان کا ایسا لباس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسند الشھاب ،۱/ ۶۲، حدیث :۴۶
2… ترجمۂ کنز الایمان: ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔(پ۲، البقرة:۱۵۶)
3… مسلم، کتاب الجنائز ، باب مایقال عندالمصيبة ،ص ۴۵۷، حدیث : ۹۱۸،بتغیرقلیل
الموطا للامام مالک ، کتاب الجنائز، باب جا مع الحسبة فی المصيبة،۱/ ۲۲۰، حدیث : ۵۶۹
4… بخاری، کتاب المرضی، باب فضل من ذھب بصرہ ،۴/ ۶، حدیث : ۵۶۵۳،بتغیر
المعجم الاوسط ،۶/ ۳۰۴،حدیث : ۸۸۵۵،بتغیرقلیل
5… حلیة الاولیاء،الرقم: ۳۸۷ سفیان الثوری،۷/ ۱۳۰،حدیث : ۹۸۹۷