Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
216 - 882
٭…تیسری قسم: وہ چیزیں جن پر بندے کو بالکل بھی اختیار نہ ہو۔ جیسے مصائب یعنی رشتہ داروں کا فوت ہونا، مال ضائع ہونا، بیماری کے سبب کمزور ہونا، بینائی زائل ہونا، اعضاء کا بےکار ہوجانا اور اسی طرح کی دیگر پریشانیاں۔ اس طرح کی پریشانیوں پر صبرکرنا صبر کا اعلیٰ مقام ومرتبہ ہے۔
	حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ارشاد  فرمایا :”قرآن پاک میں صبر کی تین صورتیں بیان کی گئیں ہیں:(۱)…فرائض کی ادائیگی میں صبرکرنا، اس کے300دَرَجات ہیں (۲)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے صبرکرنا، اس کے600دَرَجات ہیں اور (۳)…مصیبت کے وقت صدمے کی ابتدا ہی میں صبر کرنا،اس کے900دَرَجات ہیں۔
	تیسری قسم فضائل میں سے ہے اس کے باوُجود اسے ماقبل یعنی فرائض پر فضیلت دی گئی ہے کیونکہ حرام اشیاء سے صبر(یعنی رکنے) پر تو ہر مومن قادر ہوتا ہے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے آزمائش پر صبرکرنا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے علاوہ صدیقین ہی کا حصہ ہے اور یقیناً یہ نفس پر سخت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعا فرمائی: ”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں تجھ سے اس یقین کا سوال کرتا ہوں جس کے ذریعے دنیاوی مصیبتیں مجھ پر آسان ہوجائیں۔“(1)معلوم ہوا کہ صبر کا منشا حُسنِ یقین ہے۔
	حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: خدا عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم! ہم پسندیدہ چیزوں پر صبر نہیں کرتے تو ناپسندیدہ چیزوں پر کیسے صبر کریں گے؟
مصیبت پر صبر کے متعلق14 روایات:
(1)…حُضور اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہےکہ جب میں اپنے کسی بندے کو اس کے جسم، مال یا اوالاد کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں اور وہ اس پر صبر کرے تو مجھے اس سے حیا آتی ہے کہ بروزِ قیامت میں اس کے لئے میزان قائم کروں یا اس کا نامۂ اعمال کھولوں ۔(2)
(2)…محسْنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشادفرماتے ہیں :اِنْتِظَارُ الْفَرَجِ بِالصَّبْرِ عِبَادَةٌ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی ،کتاب الدعوات، باب (۸۳)،۵/ ۳۰۱، حدیث : ۳۵۱۳،بتغیر
2… مسند الشھاب ،۲/ ۳۳۰،حدیث : ۱۴۶۲