فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ (پ۱۴، الحجر:۹۸،۹۷)
باتوں سے تم دل تنگ ہوتے ہو تو اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو۔
(4)… وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیۡنَ اَشْرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَصْبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الۡاُمُوۡرِ ﴿۱۸۶﴾ (پ۴، اٰل عمرٰن:۱۸۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بےشک تم ضرور اگلے کتاب والوں اور مشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔
(5)… وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوۡا بِمِثْلِ مَا عُوۡقِبْتُمۡ بِہٖ ؕ وَلَئِنۡ صَبَرْتُمْ لَہُوَخَیۡرٌ لِّلصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۲۶﴾ (پ۱۴، النحل:۱۲۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر تم سزادو تو ویسی ہی سزادو جیسی تکلیف تمہیں پہنچائی تھی اور اگر تم صبر کرو تو بےشک صبروالوں کو صبر سب سے اچھا۔
صبر کا اعلیٰ ترین درجہ:
سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو تم سے قطع تعلُّقی کرے اس سے صلہ رحمی سے پیش آؤ، جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو اور جو تم پر ظُلْم کرے اسے مُعاف کرو۔(1)
انجیل میں ہے کہ حضرت سیِّدُناعیسیٰرُوحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا: تمہیں حکم دیا گیا ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور ناک کے بدلے ناک ہے جبکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ برائی کا بدلہ برائی سے نہ دو بلکہ جو تمہارے ایک گال پر مارے اپنا دوسراگال اس کے آگے کردو، جو تمہاری چادر چھینے تم کمربند بھی اسے پیش کردو اور جو تمہیں ایک میل ساتھ چلنے پر مجبور کرے تم اس کے ساتھ دومیل تک چلو۔
ان تمام ارشادات میں تکلیف پر صبر کرنے کا فرمایا گیا اور لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرنا صبر کا اعلیٰ مرتبہ ہے کیونکہ اس باعِثِ دینی کے مقابلے میں باعِثِ ہَوٰی اور غصہ دونوں جمع ہوتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل،مسندالشامیین،حدیث عقبة بن عامر الجھنی،۶/ ۱۴۸، حدیث : ۱۷۴۵۷