اختیار میں ہو۔ مثلاً کسی شخص کو فعل یا قول کے ذریعے تکلیف دی جائے اور اس کی جان ومال کو نقصان پہنچایا جائے تو بعض اوقات انتقام نہ لینا اور صبر کرنا بندے کے لئے ضروری ہوتا ہے اور کبھی فضیلت کے حُصول کے لئے ایسا کرتا ہے۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرمایا کرتے:” ہم بندے کو اسی وقت کامل مومن شمار کرتے جب وہ تکلیف پر صبر کرتا۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰی مَاۤ اٰذَیۡتُمُوۡنَا ؕ وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿٪۱۲﴾ (پ۱۳، ابراھیم:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور تم جو ہمیں ستا رہے ہو ہم ضرور اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہئے۔
ایک مرتبہ حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مال تقسیم فرمایا تو چند دیہاتی مسلمانوں نے کہا: ”یہ تقسیم رضائے الٰہی کے مطابق نہیں۔“جب یہ بات آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پہنچی تو آپ کے مبارک رخسارسرخ ہوگئے اور فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے بھائی حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام پر رَحم فرمائے انہیں اس سے زیادہ تکالیف دی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔“(1)
تکلیف پر صبر کے متعلق پانچ فرامین باری تعالیٰ:
(1)… وَدَعْ اَذٰىہُمْ وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ؕ (پ۲۲، الاحزاب:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ان کی ایذا پر درگزر فرماؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو۔
(2)… وَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرْہُمْ ہَجْرًا جَمِیۡلًا ﴿۱۰﴾ (پ۲۹، المزمل:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور کافروں کی باتوں پر صبر فرماؤ اور انہیں اچھی طرح چھوڑدو۔
(3)… وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیۡقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ ﴿ۙ۹۷﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور بےشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب الادب ، باب من اخبر صاحبہ بما یقال،۴/ ۱۱۵، حدیث : ۶۰۵۹ ، دون قولہ: اخی