جھگڑنا اور اپنی تعریف کرنا خواہ صراحتًا یا اشارتًا، ایسا مذاق کرنا جو دل دکھائے، ایسے کلمات منہ سے نکالنا جو دوسروں کے لئے ذلت وتحقیر کا باعث ہوں اور فوت شدہ لوگوں کے علم، افعال اور منصب کی برائی کرنا۔
یہ بظاہر تو غیبت ہیں لیکن باطنی اعتبار سے اپنی تعریف ہے کیونکہ ان افعال سے نفس کی دو خواہشات پوری ہوتی ہیں:(۱)…غیر کا انکار اور(۲)…خود کو منوانا۔ ان ہی کے ذریعے بندے کی طبیعت میں چھپی حاکمیت بھی مکمل ہوتی ہے جو بندگی کی ضد ہے جس کا انسان کو حکم دیا گیا ہے۔ ان دونوں خواہشات کے جمع ہوجانے، زبان میں تیزی آنے اور عام گفتگو میں ان چیزوں کا عادی ہوجانے کے بعد ان سے صبر بےحد دُشوار ہے اور یہ اتنا خطرناک مَرَض ہے کہ اس عادت کے پختہ اور اس سے اُنسیت ہوجانے کے بعد انسان اس کی مُمانَعَت و بُرائی کو بھول جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ مسلمان مرد اگر کبھی ریشم پہن لے تو اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے جبکہ زبان سارا دن لوگوں کی برائی کرتی رہتی ہے لیکن اسے کوئی برا نہیں سمجھتا حالانکہ مروی ہے کہ ”غیبت زِنا سےبھی سخت ترہے۔“(1)
عادت میں شامل گناہوں کا علاج:
جوبےجا گفتگو سے زبان کو نہ روک سکے اور اس سے صبر پر بھی قادر نہ ہو اسے چاہئے کہ لوگوں سے دور رہے اور تنہائی اختیار کرے، اس کے علاوہ کوئی چیز اسے نہیں بچا سکتی۔تنہائی کے ذریعے صبر کرنا(یعنی فضول گفتگو سے بچنا) لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے خاموش رہنے سے زیادہ آسان ہے اور کسی بھی گناہ سے صبر اُتناہی دُشوار ہوتا ہے جتنا اس گناہ کا سبب قوی ہوتا ہے اور سبب جتنا کمزور ہوتا ہے اس سے بچنے میں دُشواری بھی اسی قدر کم ہوتی ہے پھر دل میں وسوسے کی حرکت زبان کی حرکت سے زیادہ آسان ہے۔توتنہائی میں صرف وسوسے باقی رہتے ہیں اور ان سےچھٹکارا اسی وقت ممکن ہے کہ بندے کے دل پر کوئی دینی فکر غالب آکر اسے گھیرلے جیساکہ صبح بیدار ہونے والے شخص کے تمام غم ایک نکتہ پر جمع ہوتے ہیں پھر اگر وہ شخص تنہائی میں بھی اپنی سوچ کو کسی معین شے میں محدود نہیں کرتا تو اس سے وسوسوں کا دور ہونا متصور نہیں۔
٭…دوسری قسم:وہ چیزیں جن پر ابتداءً تو بندے کو اختیار نہ ہو لیکن ان سے چھٹکارا حاصل کرنا اس کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب الغيبة والنميمة ،۴/ ۳۳۲، حدیث : ۲۵