Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
212 - 882
 اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک ہی مقام پر دونوں کو جمع فرمادیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی (پ۱۴، النحل:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا ۔
	معلوم ہوا عدل کرنا فرائض میں سے ہے اور احسان مستحب اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو عطا کرنا مروّت اور صلہ رحمی ہے اور یہ تمام امور صبر کے محتاج ہیں۔
(2)…نافرمانی:
	 اس سے باز رہنا بندے کے لئے بےحد ضروری ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نافرمانی و گناہوں کی کئی اقسام کا ذکر ایک ساتھ فرمایا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ وَ الْبَغْیِ ۚ (پ۱۴، النحل:۹۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور منع فرماتا ہے بےحیائی اور بری بات اور سرکشی سے۔
	مدینے کے تاجدار، دوعالم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”حقیقی ہجرت کرنے والا وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے اور مجاہد وہ ہے جو خواہشات کے خلاف جہاد کرے۔“(1)
	گناہوں کا سبب باعِثِ ہویٰ(یعنی برائی کی طرف لیجانے والی قوت) ہے۔
عادات میں شامل کبیرہ گناہ:
	گناہوں سے صبر(یعنی رکنے) کی سب سے زیادہ مشکل قسم ان گناہوں سے صبر ہے جو عادت کے ذریعے طبیعت میں شامل ہوجاتے ہیں کیونکہ عادت بھی طبیعت کی ایک قسم ہے اور جب خواہشات عادت بن جاتی ہیں تو شیطانی لشکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لشکر کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اس وقت باعثِ دینی خواہشات کے خاتمے کی قوت نہیں رکھتی۔ پھر اگر وہ گناہ ان افعال میں سے ہوں جن کا کرنا بےحد آسان ہوتا ہے تو ان سے صبرکرنا نفس پر انتہائی دُشوار ہے۔ مثلاً زبان سے صادر ہونے والے گناہ غیبت، جھوٹ، 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی کتاب الجھاد، باب ماجاء فی فضل من مات مرابطا،۳/ ۲۳۲،حدیث : ۱۶۲۷،دون:المھاجر من ھاجر السوء
	سنن ابن ماجہ ، کتاب الفتن، باب حرمة  دم  المؤمن ومالہ ،۴/ ۳۲۰،،حدیث : ۳۹۳۳،دون:المجاھد من جاھد ھواہ