وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ (پ۳۰، البینة:۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نرے اسی پر عقیدہ لاتے۔
(صبر کا تعلق چونکہ خاص ربّ تعالیٰ سے ہے) اسی لئے اس نے صبر کو عمل پر مقدم فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ (پ۱۲، ھود:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ۔
٭…دورانِ عمل کی حالت: دورانِ عمل صبر اس لئے ضروری ہے تاکہ اس دوران بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافل نہ ہو اور عمل کی سنتوں اور آداب کی ادائیگی سے سستی کا شکار نہ ہو اور ابتدا تا انتہا آداب کا لحاظ رکھے۔ اسےچاہئے کہ آخر تک عمل فاسد کرنے والے اُمور سے صبر کرے(یعنی خود کو باز رکھے) یہ صبر بھی دُشوار ترین ہے اورممکن ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمان: نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیۡنَ ﴿٭ۖ۵۸﴾ الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا (ترجمۂ کنز الایمان: کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا وہ جنہوں نے صبر کیا۔پ۲۱، العنکبوت:۵۸تا۵۹) سےیہی لوگ مراد ہوں جو عمل مکمل کرنے تک صبر پر قائم رہے۔
٭…عمل کے بعد کی حالت: عمل سے فارغ ہونے کے بعد بھی بندہ صبر کا محتاج ہے کہ اس کا چرچا کرنے، اس کے اظہار سے شہرت و ریاکاری میں مبتلا ہونےاوراس کی طرف نظر کرنے سے خودپسندی میں مبتلا ہونے سے صبر کرے(یعنی خود کو بچائے) نیز ہر اس چیز سے خود کو بچائے جو عمل اور اس کے اثر کو زائل کردے۔ جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےارشاد فرمایا: وَ لَا تُبْطِلُوۡۤا اَعْمَالَکُمْ ﴿۳۳﴾ (پ۲۶، محمد:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے عمل باطل نہ کرو۔
ایک مقام پر ارشاد فرمایا: لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰیۙ (پ۳، البقرة:۲۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر۔
لہٰذا صدقہ کرنے والا اگر احسان جتلانے اور تکلیف دینے سے صبر نہ کرے(یعنی باز نہ رہے) تو اس کا عمل برباد کردیاجاتا ہے۔
طاعات و فرمانبرداری کبھی فرض ہوتی ہے کبھی نَفْل لیکن دونوں صورتوں میں بندہ صبر کا محتاج ہے۔