فرمایا:ہر نفس میں وہ بات چھپی ہوتی ہے جس کا فرعون نے ان الفاظ کے ساتھ اظہار کیا:
اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾ (پ۳۰، النٰزعٰت:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان: میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں۔
فرعون نے اپنی قوم کو کمتر جانا تو موقع پاکر اس کا اظہار کردیا اور اس کی قوم نے اس کی پیروی بھی کی۔ ہر شخص اپنے غلام، خادم، پیروکار اور اپنے ہرماتحت سے اسی چیز کا دعویدار ہوتا ہے اگرچہ لفظوں میں اظہار نہیں کرتا کیونکہ اس کا انہیں حقیر سمجھنا، ان سے اگر خدمت میں کوتاہی ہوجائے تو غصہ کرنا اور رب تعالیٰ کی فرمانبرداری و عبادت سے دور رہنا یہ سب کچھ اس کے اندر چھپی بڑائی ہی کی بنا پر ہے اور اس بڑے پن میں حاکمیت کا تقاضا ہے۔
معلوم ہوا کہ عبادات نفس پر مطلقاً دُشوار ہیں۔ اب یہ دشواری و ناپسندیدگی سستی کی وجہ سے ہوگی جیسے نماز، یا بخل کے سبب ہوگی جیسے زکوٰۃ یاپھر سستی و کنجوسی دونوں کی وجہ سے ہوگی جیسے فرض حج اور جہاد۔ پس عبادات میں بہت سی دشواریوں پر صبر کرنا ہوتا ہے۔
عمل کی باریکیاں:
کوئی بھی عمل یا عبادت تین حالتوں سے خالی نہیں: (۱)…عمل سے پہلے کی حالت (۲)…دورانِ عمل کی حالت اور(۳)…عمل کے بعد کی حالت۔ بندہ ان تینوں حالتوں میں صبر کا محتاج ہے۔
٭…عمل سے پہلے کی حالت: اس سے مراد یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ نیت کی جائے، ریاکاری اور عمل فاسد کرنے والی اشیاء کو دور کیا جائے اور اخلاص کے ساتھ عمل مکمل کرنے کا پختہ عزم کیا جائے۔ یہ تمام اُمور اس پر دُشوار ہیں جو نیت و اخلاص کی حقیقت اور نفس کے مکر وفریب کو جانتا ہو۔
نیّت کے متعلق رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیٍٔ مَّانَوٰی یعنی بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔(1)
اخلاص کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب بدء الوحی،باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ،۱/۵، حدیث : ۱