Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
21 - 882
	مخلوق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قضا وقدر کی پابند ہے، من جملہ قضا وقدر میں سے ایک بات لکھنے والے کے ہاتھ میں حرکت کو پیدا کرنا ہے اور یہ حرکت ہاتھ میں اس خاص صفت کو پیدا کرنے کے بعد ہوتی ہے جسے قدرت کہا جاتا ہے اور دل کے اس پختہ میلان کی تخلیق کے بعد ہوتی ہے جسے قَصْد واِرادہ کہتے ہیں نیز یہ حرکت اس شے کے علم کے بھی بعد ہوتی ہے جس کی جانب میلان ہوتا ہے اور اسے اِدراک ومَعْرِفَت کہا جاتا ہے۔
غیبی دنیا اور ظاہر ی دنیا:
	الغرض جب غلبہ ٔ تقدیر کےتحت مسخر بندے کے جسم پر غیبی دنیاکے باطن سے یہ مذکورہ چارباتیں ظاہر ہوتی ہیں تو غیبی دنیا سے بےخبر ظاہری دنیا والے کہنے لگتے ہیں:اے بندے تونے حرکت کی، تونے کنکر پھینکا، تو نے لکھا۔ جبکہ پردۂ غیب سے ندا دی جاتی ہے: وَمَا رَمَیۡتَ اِذْ رَمَیۡتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی ۚ (پ۹،الانفال:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔
آپ نے جو قتال (جہاد)کیا وہ آپ نے نہ کیا مگر یہ کہ  قَاتِلُوۡہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللہُ بِاَیۡدِیۡکُمْ (پ۱۰،التوبة:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تو ان سے لڑو اللہ انھیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں۔
	یہاں پہنچ کر ظاہری دنیا سے وابستہ لوگوں کی عقلیں حیرت میں پڑجاتی ہیں۔ اس وقت کوئی کہتا ہے: ”بندہ بالکل بےبس ہے۔“ تو کوئی یہ نظریہ اپنا لیتا ہے کہ”بندہ اپنے اَفعال کا خالق ہے۔“ جبکہ بعض اعتدال پر رہتے ہوئے اس طرف مائل ہیں کہ”بندہ اپنے اَفعال کا کاسب ہے۔“
	اگر ان لوگوں کے لئے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جائیں اور وہ غیبی دنیا کو دیکھ لیں تو ان پر ظاہر ہوجائے کہ ان میں سے ہر کوئی ایک اعتبار سے سچا ہے اور ایک لحاظ سے سارے کے سارے غلطی پر ہیں۔ لہٰذا ان میں سے کسی نے بھی اس مُعامَلہ کی حقیقت کا ادراک نہیں کیا اور نہ ہی اس کا عِلْم اس مُعامَلہ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرسکا اور اس کے علم کی تکمیل اس نور کی چمک سے ہوتی ہے جو عالم غیب کی طرف سے کھلتی ہے۔ بےشک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ غیب اور ظاہر کا جاننے والا ہے، وہ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے اپنے غیب کو