Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
209 - 882
 لذتوں اور کھیل کود میں منہمک رکھے۔ اپنا مال خرچ کرنے، جسمانی طریقے سے لوگوں کی مدد کرنے، زبان سے سچ بولنے بلکہ ہر نعمت کے استعمال میں حقوقُ اللہ کو مدنظر رکھے۔ ایسا صبر شکر کو بھی شامل ہےاور صبر اسی وقت کامل ہوتا ہے جب اس کے ساتھ شکر ملا ہو، اس کی تفصیل عنقریب بیان کی جائے گی۔
خوشحالی و فراوانی بھی ایک امتحان ہے:
	یقیناً خوشحالی میں صبر کرنا زیادہ دُشوار ہے کیونکہ خوشحالی میں بندے کو قدرت و اختیار حاصل ہوتا ہے اور عام طور پر انسان اسی چیز سے محفوظ یا باز رہتا ہے جس پر اسے قدرت نہ ہو۔ مثلاً انسان دوسرے کا محتاج ہو تو اس کے لئے پچھنے لگوانے(یعنی جسم سے فاسد خون نکلوانے) سے صبرکرناخود کفیل شخص  کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے ۔ یونہی جس کے سامنے  کھانا حاضر ہو اور وہ کھانے پر قادر بھی ہواس کے مقابلے میں اس شخص کے لئے صبر کرنا زیادہ آسان ہے جو بھوکا ہو اور اس کے سامنے کھانا موجود نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ خوشحالی کا فتنہ زیادہ بڑا ہے۔
دوسری صورت:
	یعنی خواہش وطبیعت کے برخلاف پیش آنے والے معاملات۔یہ تین اقسام پر مشتمل ہیں:(۱)…وہ  معاملات جو بندے کے  اختیار میں ہوں جیسے طاعت و نافرمانی یا (۲)…ابتدا میں تو بندے کو ان پر اختیار نہ ہو لیکن ان سے چھٹکارا حاصل کرنا بندے کے اختیار میں ہوجیسے کسی کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف پر انتقام لینایا (۳)…پھر بندے کو ان پر بالکل بھی اختیار نہ ہو جیساکہ مصیبتیں اور تکالیف۔
٭…پہلی قسم: یعنی وہ چیزیں جن پر بندے کو اختیار ہو، اس سے مراد بندے کے افعال ہیں۔
بندوں کے افعال اور ان  کی دواقسام:
	اس کی (مزید) دو قسمیں ہیں: (۱)…طاعت (۲)…نافرمانی۔
(1)…طاعت: 
	بندہ اس میں صبر کا محتاج ہوتا ہے اور اس پر صبر کرنا مشکل ہے کیونکہ نفس طبعی طور پر فرمانبرداری اور بندگی سے دور بھاگتا اور سربراہی و حاکمیت کا طلب گار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عارفین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے