Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
208 - 882
 مال  اور اہل وعیال کے فتنے کے بارے میں تنبیہ فرمائی۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِۚ (پ۲۸، المنافقون:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اےایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے۔
	ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَ اَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ فَاحْذَرُوۡہُمْ ۚ (پ۲۸، التغابن:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان: تمہاری کچھ بیبیاں اور بچے تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو۔
	رحمتِ عالَم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اَلْوَلَدُ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةیعنی اولاد بخل، بُزدلی اور غم کا سبب ہے۔(1)
	ایک مرتبہ سرکارِدوجہان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے حضرت سیِّدُنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف دیکھا کہ وہ اپنی قمیص میں الجھ کر ڈگمگا رہے ہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منبر سے اُتر کر انہیں اپنی آغوش میں لے لیااور پھرارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سچ فرمایا: اِنَّمَاۤ اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ؕ (ترجمۂ کنز الایمان: تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں۔پ۲۸، التغابن:۱۵) دیکھو! میں نے جب اپنے بیٹے(یعنی نواسے) کو ڈگمگاتے دیکھا تو اسے اٹھانے سے خود کو نہ روک سکا۔(2)
	ان فرامین میں عقلمند کے لئے عبرت ہے۔
کامِل مرد:
	کامل مرد وہی ہے جو عافیت میں بھی صبر کرے۔ عافیت میں صبر سے مراد یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس کا عادی نہ بنائے اور یہ بات اچھی طرح سے جان لے کہ ہر چیز اس کے پاس امانت ہے اور بہت جلد اسے مالکِ حقیقی کی طرف لوٹنا ہے۔ اپنے نفس کو آسائشوں میں خوش رہنے کی طرف مائل نہ کرے نہ ہی اسے نعمتوں،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…  سنن ابن ماجہ، کتاب الادب ، باب برالوالد والاحسان ،۴/ ۱۸۷،حدیث : ۳۶۶۶،دون:محزنة
	المستدرک ، کتاب معرفة  الصحابة، باب من مناقب الحسن و الحسین،۴/ ۱۵۳،حدیث : ۴۸۲۵
2… سنن الترمذی، کتاب المناقب ، باب مناقب ابی محمد الحسن بن علی،۵/ ۴۲۹،حدیث : ۳۷۹۹،بتغیر