Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
207 - 882
چھٹی فصل:		انسان ہر حالت میں صبر کا محتاج ہے
انسانی زندگی کی دو صورتیں:
	جان لیجئے ! اس دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے اس کی دو صورتیں ہیں:پہلی صورت یہ ہے کہ جو کچھ ملے خواہش کے مطابق ہو۔ دوسری صورت یہ کہ ملنے والی چیزیں  خواہش کے مطابق نہ ہوں بلکہ ناپسند ہوں۔ انسان کو پیش آنے والی یہی دو صورتیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک میں انسان صبر کا محتاج ہے۔
پہلی صورت:
	یعنی خواہش وطبیعت کے مطابق پیش آنے والے معاملات۔ اس سے مراد صحت، آفات سے سلامتی، مال، عزت، اہل وعیال کی کثرت، اسباب کی وُسعت، پیروکاروں اور مددگاروں کی کثرت اورتمام  دنیاوی آسائشیں ہیں۔ان امور میں انسان صبر کا زیادہ محتاج ہے کیونکہ اگرانسان ان کی طرف میلان ،جھکاؤ اور ان مباح آسائشوں میں اِنْہِماک سے اپنے آپ کو نہ روکے تو یہی امور اسے تکبر اور سرکشی میں مبتلا کردیتے ہیں۔ 
	ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَیَطْغٰۤی ۙ﴿۶﴾ اَنۡ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی ﴿ؕ۷﴾ (پ۳۰، العلق:۷،۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک آدمی سرکشی کرتا ہے اس پر کہ اپنے کو غنی سمجھ لیا۔
	بعض عارفین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں: مومن آزمائش پر صبر کرتا ہے لیکن صدیق عافیت میں بھی صبر کرتا ہے۔
	حضرت سیِّدُنا سہل تُستری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں: عافیت میں صبر کرنا آزمائش میں صبر کرنے سے زیادہ دُشوار ہے۔
اولاد بھی ایک فتنہ ہے:
	صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر جب دنیا کے دروازے کھول دیئے گئے تو وہ فرمانے لگے:” جب ہم تنگی میں تھے تو ہم نے صبر کیا لیکن خوشحالی کے فتنے سے نہ بچ سکے۔“ یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے بندوں کو