عبادت کرو اگر اس کی طاقت نہیں تو ناپسندیدہ چیز پر صبر کرنا ہی خیرِکثیر ہے۔(1)
بعض عارفین کے نزدیک صبر کے درجات:
بعض عارفین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے صبر کے تین دَرَجے بیان فرمائے ہیں:
٭…پہلا درجہ: خواہش کو ترک کرنا۔ یہ توبہ کرنے والوں کا درجہ ہے۔
٭…دوسرا درجہ: جو کچھ عطا کیا گیا اس پر راضی رہنا۔ یہ زاہدین کا درجہ ہے۔
٭…تیسرا درجہ: خالِقِ حقیقی سے محبت کرنا۔ یہ صدیقین کا درجہ ہے۔
محبت کا مقام رضا سے اعلیٰ ہے جیساکہ رضا صبر سے اعلیٰ ہے اور اس کی تفصیل ہم محبت کے باب میں بیان کریں گے۔صبر کی یہ تمام اقسام مصائب وآلام پر صبر کرنے کے اعتبار سے ہیں۔
حکم کے اعتبار سے صبر کی اقسام:
جان لیجئے !حکم کے اعتبار سے صبر کی چار قسمیں ہیں:(۱)…فرض (۲)…مستحب(۳)…حرام (۴)…مکروہ۔
شریعت نے جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے صبر(یعنی رکنا) فرض ہے۔ ناپسندیدہ کام(جو شرعاً ممنوع نہ ہو اس) سے صبر مستحب ہے۔ تکلیف دہ فعل جو شرعاً ممنوع ہے اس پر صبر(یعنی خاموشی) ممنوع ہے مثلاً کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ ناحق کاٹا جائے تو اس شخص کا خاموش رہنا اور صبر کرنا، ایسے ہی جب کوئی شخص شہوت سے مغلوب ہوکر بُرے ارادے سے اس کے گھروالوں کی طرف بڑھے تو اس کی غیرت بھڑک اٹھے لیکن غیرت کا اظہار نہ کرے اور گھروالوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس پر صبرکرے۔ شریعت نے اس صبر کو حرام قرار دیا ہے۔ مکروہ صبر یہ ہے کہ شرعاً ناپسندیدہ چیز کے ذریعے پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرے۔
معلوم ہوا کہ صبر شریعت کے مطابق ہونا چاہئے۔ صبر نصف ایمان ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم ہرصبر کو اچھا گمان کرو بلکہ اس سے مراد صبر کی مخصوص اقسام ہیں۔
(صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… شعب الایمان ، باب فی الصبر علی المصائب، فصل فی ذکر مافی الاوجاع… الخ ،۷/ ۲۰۳، حدیث : ۱۰۰۰۰،بتغیر