Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
205 - 882
 طور پر ناقص اوریقیناً(حق سے) منہ موڑنے والاہے ایسے شخص کے لئے شاعر کہتا ہے:
وَلَمْ اَرَ فِیْ عُیُوْبِ النَّاسِ عَیْبًـا	کَنَقْصِ الْقَادِرِیْنَ عَلَی التَّمَام
	ترجمہ: میں نے اس سے بڑھ کر انسان کا کوئی عیب نہیں دیکھا کہ وہ قادرہونے کے باوجود کام ادھورا چھوڑ دے۔
آسانی اور دشواری کے اعتبار سے صبر کی اقسام:
	صبر کرنے میں نفس کے لئے آسانی اور دشواری کے اعتبار سے صبر کی مزید دو قسمیں ہیں: (۱)تصبّر (۲)صبر۔
	جن چیزوں پر صبر کرنا نفس کے لئے بے حد دشوار ہے ان پر ہمیشگی، مسلسل جدجہد اور سخت محنت کے بعد ہی صبر کرنا ممکن ہے۔ اس قسم کو تصبّر(یعنی بتکلف صبر کرنا) کہتے ہیں اور جن پر سخت محنت کے بغیر ہی معمولی کوشش سے ہمیشگی حاصل ہوجائے اسے صبر کہا جاتا ہے۔
	جب تقوٰی اپنا لیا جائے اور بہتر آخرت کا پختہ یقین ہوجائے تو ایسے شخص کے لئے صبر آسان ہوجاتا ہے۔ اسی کے متعلق ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
فَاَمَّا مَنۡ اَعْطٰی وَ اتَّقٰی ۙ﴿۵﴾ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ۙ﴿۶﴾ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی ؕ﴿۷﴾ (پ۳۰، الیل:۵تا۷)
ترجمۂ کنز الایمان: تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی اور سب سے اچھی کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اُسے آسانی مہیا کردیں گے۔
	نفس کے لئے یہ دونوں قسمیں ایسی ہی ہیں جیسے طاقتور انسان کی قدرت غیر پر کہ طاقتور انسان کمزور پر تو ذرا سی کوشش اور بغیر کسی مشقت کے غالب آجاتا ہے نہ تھکتا ہے نہ دل میں خوف ہوتا ہے اور نہ ہی سانس پھولتا ہے لیکن جب اس کا مقابلہ کسی بہادُر شخص سے ہوتا ہے تو کوشش زیادہ کرنی پڑتی ہے پیشانی پر پسینہ آجاتا ہے اور تھکاوٹ ہوجاتی ہے۔ باعِثِ دینی اور باعِثِ ہَوٰی کے مقابلے کی بھی یہ ہی کیفیت ہے درحقیقت یہ مقابلہ فَرِشتوں کے گروہ اور شیطانی لشکر کے درمیان ہوتا ہے۔ پس جب شہوات کا بالکل خاتمہ ہوجائے اور باعِثِ دینی غَلَبہ واختیار حاصل کرلے تو صبر پر قائم رہنا آسان ہوجاتا ہے۔ یہ حالت بندے کو رضا کے مرتبے تک پہنچادیتی ہے۔ رضا کی تفصیل ہم علیٰحدہ باب میں بیان کریں گے، یہ صبر سے اعلیٰ ہے۔ اسی لئے سرکارِ مدینہ،راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: رضامندی کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی