Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
204 - 882
 غلبہ و اختیار دیا جو اس کے لائق نہ تھا۔ یقیناً مسلمان کی شان یہ ہے کہ غلبہ و اختیار اسے دیا جائے کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَعْرِفَت رکھتا ہے اور باعِثِ دینی کی پیروی کرتا ہے جبکہ کافر مغلوب و مجبور کئے جانے کا حقدار ہے کیونکہ وہ دین سے بے خبر، شیاطین کی پیروی میں بدمست ہے اور مسلمان اپنے نفس کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے۔ یاد رکھو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گروہ اور فرشتوں کے لشکر(یعنی باعِثِ دینی) پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور کرنے والے شیاطین کے گروہ(یعنی باعِثِ ہویٰ) کو غالب کر دینا ایسا ہے جیسے کسی مسلمان کو کافر کا غلام بنادینا بلکہ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اِنعام واِکرام سے نوازنے والے بادشاہ کی عزت دار اولاد کو اس کے سب سے بڑے دشمن کے حوالے کردے۔ سوچو! وہ کیسا ناشکرا ہے، یقیناً سزا کا مستحق ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں زمین پر موجود سب سے زیادہ برا معبود خواہش ہے جس کی غلامی کی جاتی ہے اور سب سے زیادہ عزت دارمخلوق عقل ہے۔
٭…تیسری حالت:
	دونوں لشکروں یعنی باعِثِ دینی اور باعِثِ ہَوٰی کے درمیان جنگ جاری رہے کبھی ایک غالب آجائے تو کبھی دوسرا۔ ایساشخص مجاہَدہ کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے نہ کہ کامیاب ہونے والوں میں۔ ان ہی کے بارے میں ہے:
خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّئًا ؕ عَسَی اللہُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡہِمْ ؕ (پ۱۱، التوبة:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ملایا ایک کام اچھا اور دوسرا برا قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے۔
	انسان کی یہ تین حالتیں دونوں قوتوں کے قوت وضُعف کے اعتبار سے ہیں جبکہ خواہشات کی تعداد کا اعتبار کیا جائے تو انسان کی مزید تین حالتیں ہیں:(۱)…تمام خواہشات پر غلبہ پالینا (۲)…بالکل مغلوب ہوجانا (۳)…بعض پر غلبہ پالینا اور بعض پر نہیں۔
	مذکورہ فرمانِ باری تعالیٰ تیسری حالت والے یعنی اس شخص کے بارے میں ہے جو بعض خواہشات پر غلبہ پالے اور بعض پر نہیں اور جو شخص خواہشات کے خلاف بالکل بھی مجاہدہ نہ کرے وہ چوپائے کی طرح  بلکہ اس سے بھی بدتر گمراہ ہے کیونکہ چوپائے کو معرفت وقدرت حاصل نہیں جس سے خواہشات کے خلاف مجاہدہ کرسکے جبکہ ایسے شخص  کو معرفت وقدرت عطاکی گئی لیکن اس نے ان کا استعمال نہ کیا۔ ایسا شخص حقیقی