الْقَوْلُ مِنِّیۡ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾ (پ۲۱، السجدة:۱۳)
ہدایت عطا فرماتے مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنم کو بھردوں گا ان جنّوں اور آدمیوں سب سے۔
یہی لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیاوی زندگی حاصل کی تو یہ خسارے کا سودا ہے، ایسے لوگوں سے دوری کاحکم دیاگیاہے۔چنانچہ ارشادِباری تعالیٰ ہے: فَاَعْرِضْ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ﴿ؕ۲۹﴾ ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ ؕ (پ۲۷، النجم:۳۰،۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان: تو تم اس سے منہ پھیرلو جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے۔
یہ حالت مایوسی، ناامیدی اور غفلت کی علامت ہے اوریہی بے وقوفی میں حد سے بڑھ جاناہے ۔
بے وقوف شخص:
حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کام آنے والے عمل کرے اور بے وقوف وہ ہےجو خواہشِ نفس کی پیروی کرے پھر بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُمیدر کھے ۔(1)
ایسے شخص کو جب نصیحت کی جائے تو وہ کہے گا: ”میں توبہ کرنا چاہتا ہوں مگر مجبور ہوں۔“ درحقیقت اس میں توبہ کی کڑہن وطلب نہیں یا وہ توبہ کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اگر وہ کہے کہ ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ بخشنے والا مہربان ہے، اسے میری توبہ کی حاجت نہیں۔“ تو اس بے چارے کی عقل پر نفسانی خواہشات غالب آگئیں۔ یہ صرف نفسانی خواہشات پوری کرنے کے حیلوں بہانوں میں اپنی عقل استعمال کرتا ہے۔ اس کی عقل نفسانی خواہشات کے جال میں اس طرح پھنس چکی ہے جیسے ایک مسلمان کفار کی قید میں ہو اور وہ اسے خنزیروں کی دیکھ بھال، شراب کی حفاظت اور اس کے اٹھانے پر مامور کریں۔
اس کی حالت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اس بڑے مجرم کی سی ہے جو مسلمان پرغلبہ پاکر اسے کفار کے حوالے کرکے قید میں ڈلوادے گویااس نے ایسے شخص کو مجبور ومغلوب کردیا جس کی شان یہ نہ تھی اور ایسے شخص کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی، کتاب صفة القیامة ، باب (۹۰)،۴/ ۲۰۷، حدیث : ۲۴۶۷،والاحمق بدلہ والعاجز