پانچویں فصل: صبركے قوی اور ضعیف ہونے کے اعتبار
سےانسان کی تین حالتیں
جان لیجئے! باعِثِ دِینی اور باعِثِ ہوٰی(1) کے درمیان نسبت کے اعتبارسے انسان کی تین حالتیں ہیں:
٭…پہلی حالت:
باعِثِ دینی باعِثِ ہَوٰی پر غالب آجائے اور باعِثِ ہَوٰی میں جھگڑنے کی قوت باقی نہ رہے۔ انسان اس حالت و مقام کو دائمی صبر سے ہی حاصل کرسکتا ہے اور ایسے شخص کے لئے ہی کہا جاتا ہے: ”مَنْ صَبَرَ ظَفَرَ یعنی جس نے صبر کیا وہ کامیاب ہوا۔“ اس مقام کو پانے والے بہت تھوڑے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صدیقین و مقربین ہیں۔ یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کو پکارا اور اسی کی طرف متوجہ ہوگئے اور یہی سیدھی راہ پر سیدھے چلتے ہیں۔ ان کے نفس باعِثِ دینی کی پیروی کے سبب مطمئن ہیں اور بوقتِ موت ان ہی لوگوں کو مُنادی یہ ندا دیتا ہے:
یٰۤاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ﴿۲۷﴾٭ۖ ارْجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾ (پ۳۰، الفجر:۲۸،۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔
٭…دوسری حالت:
باعِثِ ہَوٰی غالب آجائے اور باعِثِ دینی کو جڑ سے ختم کردے۔ ایسے شخص کا نفس شیاطین کی جماعت کے سپرد کردیا جاتا ہےتو مغلوبیت ومایوسی کے سبب بندہ نفس کے خلاف جہاد نہیں کرتا۔یہی لوگ غافل ہیں اور ان کی تعداد بہت زیادہ ہےنیز یہی وہ لوگ ہیں جن کی خواہشات نے انہیں اپنا غلام بنالیا اور بدبختی ان پر غالب آگئی اور انہوں نے اپنے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دشمنوں کے حوالے کردیئے۔ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رازوں میں سے ایک راز اور اس کے فیصلوں میں سے ایک فیصلہ ہے۔ ان ہی کے بارے میں ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدٰىہَا وَ لٰکِنْ حَقَّ
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اُس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…باعِثِ دینی اور باعِثِ ہویٰ کی تعریف صفحہ191 پرملاحظہ فرمایئے!