اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ”ھُوَالصَّبْرُ یعنی صبر ہی ایمان ہے۔“(1) کیونکہ صبر ایمان کا اہم اور معزز ترین حصہ ہےاور عظمت وشرف ہی کی بنا پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عرفہ کے متعلق ارشاد فرمایا: ”اَلْحَجُّ عَرَفَةیعنی حج وُقوفِ عرفہ ہے۔“(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صبر کی تمام اقسام ایک ہی نام کے ساتھ ایک جگہ جمع فرمادیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَالصّٰبِرِیۡنَ فِی الْبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیۡنَ الْبَاۡسِؕ (3)یعنی مصیبت ،تنگ دستی اور جنگ کے موقع پر صبر والے۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡاؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾ (ترجمۂ کنز الایمان: یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں۔ پ۲، البقرة:۱۷۷)
صبر کی یہ اقسام اس کے متعلقات کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہیں۔ جو اس کے ناموں کے معانی میں غور وفکر کرے تو ضرور وہ ان تمام احوال کو ذات وحقیقت کے اعتبار سے مختلف سمجھے گا جبکہ سیدھی راہ پر چلنے والا معانی میں غور کرکے اس کے ناموں میں اُلجھے بغیر ابتداءً ہی نورِخداوندی سے دیکھ کر اس کی حقیقت جان لے گا کیونکہ نام تو بس معانی کی پہچان کرواتے ہیں جبکہ اصل معانی ہیں اور الفاظ ونام تابع اور جو تابع میں اصل تلاش کرے وہ ضرور غَلَطی کرتا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پاک کلام میں دو نوں فریقوں کا ذکر اس طرح فرمایا:
اَفَمَنۡ یَّمْشِیۡ مُکِبًّا عَلٰی وَجْہِہٖۤ اَہۡدٰۤی اَمَّنۡ یَّمْشِیۡ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیۡمٍ ﴿۲۲﴾ (پ۲۹، الملک:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا وہ جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یا وہ جو سیدھا چلے سیدھی راہ پر۔
کفار نے یہی طرزِ عمل اپنایا کہ اصل کے علاوہ میں مگن رہے جو ان کی بربادی کا سبب بنا۔ ہم لطف وکرم فرمانے والے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ سے بہتر توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
(صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عمرو بن عبسة ،۷/ ۱۱۱، حدیث : ۱۹۴۵۲،بتغیرقلیل
2… سنن ابن ماجہ، کتاب المناسک ، باب من اتی عرفة قبل الفجر،۳/ ۴۶۸، حدیث : ۳۰۱۵
3… ترجمۂ کنز الایمان: اور صبروالے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت ۔ (پ۲، البقرة:۱۷۷)