Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
200 - 882
 حصہ ہوا۔ بہتر ہے کہ شرعی احکامات کو اعمال، احوال اور ایمان کی طرف ان کی نسبت کے ذریعے سمجھا جائے۔ اس کے لئے ایمان کے ابواب کی پہچان ضروری ہے کیونکہ ایمان کی تعریف کئی طرح سے کی جاتی ہے۔
چوتھی فصل:		مختلف حالتوں میں صبر کے مختلف نام
	جان لیجئے !صبر کی دو قسمیں ہیں:(۱)…جسمانی (۲)…نفسی۔ جسمانی صبر سے مراد بدن کامَشقتیں اٹھانا اور ان پر ثابت قدم رہنا ہے۔یہ کبھی کسی فعل کے ذریعے ہوگا جیساکہ عبادات و مُعامَلات میں نفس پر گِراں گزرنے والے اعمال بجالانا یا پھر قوتِ برداشت کے ذریعے ہوگا جیساکہ سخت تکلیف، خطرناک بیماری اور گہرے زخم پر صبر کرنا۔  اس صبر میں اگر شریعت سے روگردانی نہ پائی جائے تو یہ پسندیدہ ہے لیکن اس سے زیادہ پسندیدہ دوسری قسم یعنی نفسی صبر ہے اور اس سے مراد ہے کہ نفس کا طبعی و نفسانی خواہشات کی پیروی سے باز رہنا۔ پھر اگر نفس پیٹ اور شرم گاہ کی خواہش پوری کرنے سے رکا رہے تو اسے عِفّت(یعنی پاک دامنی) کہتے ہیں اور اگر کسی ناپسندیدہ چیز پر صبر کیا جائے تو چیزوں  کے مختلف ہونے کے سبب لوگوں کے درمیان اس کے مختلف نام رائج ہیں۔ مثلاً اگر مصیبت میں نفس پُرسکون رہے تواسے صبر کہتے ہیں اور اس کی ضد گھبراہٹ و بَدحَواسی کہلاتی ہے یعنی مصیبت کے وقت چیخنا، گالوں پر ہاتھ مارنا، گِرِیبان پھاڑنا اور دیگر کاموں میں حد سے بڑھ جانا۔ اگر مال ودولت کے باوُجود نفس صبر کرے تو اسے ضبْطِ نفس کہتے ہیں، اس کی ضد تکبر ہے۔ اگر جنگ و مقابلے میں صبر کیا جائے تو اسے شجاعت وبہادری کہتے ہیں اور اس کی ضدبزدلی ہے۔ اگر  غصہ پینے کی صورت میں پایاجائے تو بُردباری کہلاتا ہے اور اس کی ضد عدمِ برداشت ہے۔ اگر زمانے کے کٹھن وقتوں میں صبر پایاجائے تو اسےفراخ دلی کہتے ہیں اور اس کی ضد تنگ دلی و پریشان حالی ہے۔ اگر بات چھپانے میں ہو تو اسے رازداری اور ایسے شخص کو رازدار کہتے ہیں۔ یونہی موجود پر صبر کیا جائے زیادہ کی تمنا نہ کی جائے تو یہ زُہْد کہلاتا ہے اور اس کی ضد حرص ہےاور اگر تنگدستی اور حاجت سے کم ہونے کے باوجود صبر کیا جائے تو اسے قناعت کہتے ہیں اور اس کی ضد بےاطمینانی ہے۔
	ایمان کے اکثر حصے صبر میں داخل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ جب رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدمصَلَّی