ارادہ ہمیشہ حَرَکت کے تابع ہوتے ہیں۔ ہرفعل میں یہی ترتیب ہے اور یہ سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کے پید ا فرما نے سے ہے لیکن اس کی بعض مخلوقات دوسری بعض کے لئے شرط کا درجہ رکھتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بعض کو مُقَدَّم تو بعض کو مُؤَخَّر کرنا واجب ہے جیسے علم کے بعد ارادہ، حیات کے بعد علم اور جسم کے بعد حیات پیدا کی جاتی ہے۔ پس زندگی کے پیدا ہونے کے لئے جسم کی تخلیق شرط ہے لیکن ایسا نہیں کہ زندگی جسم سے پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح حیات کا پیدا ہونا علم کی تخلیق کے لئے شرط ہے مگر یہ مطلب نہیں کہ علم حیات سے پیدا ہوتا ہے بلکہ محل علم کو قبول کرنے کی صلاحیت اسی وقت رکھے گا جب اس میں حیات ہو۔ یونہی علم کی تخلیق ارادے کی پختگی کے لئے شرط ہے لیکن ایسا نہیں کہ علم ارادے کو پیدا کرتا ہے بلکہ زندہ اور علم رکھنے والا جسم ہی ارادے کو قبول کرتا ہے۔
وُجود میں صرف ممکن چیزیں ہی داخل ہیں اور ان کے لئے ایک ترتیب مُقَرَّر ہے جو تبدیلی کو قبول نہیں کرتی کیونکہ اسے تبدیل کرنا مُحال ہے،لہٰذا جب بھی وصف کی شرط پائی جائے گی محل اس وصف کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھے گا لیکن حُصُولِ صلاحیت کے باوجود یہ وصف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جود وکرم اور ازلی قدرت کے تحت داخل ہوتا ہے۔
جب شُرُوط کے سبَب حاصل ہونے والی صلاحیت کے لئے ایک ترتیب مُقَرَّر ہے تو یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فعل سے حوادِث کے حصول کے لئے بھی ایک ترتیب مقرر ہے اور بندہ ان ترتیب شدہ حوادث کا محل ہے اور یہ سب قضائے الہٰی سے پلک جھپکنے میں ایسا کامل مرتب ہوجاتا ہے جو تغیر سے محفوظ ہوتا ہے اور تفصیل کے ساتھ ان کا ظہور پذیر ہونا ایسے اندازے کے ساتھ مقدر ہے جس میں ذرّہ بھر تجاوز کی گنجائش نہیں۔ اس بات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ یوں بیان فرماتا ہے:
اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ ﴿۴۹﴾ (پ۲۷،القمر:۴۹) ترجمۂ کنز الایمان:بیشک ہم نے ہرچیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔
قضائے کُلی کو اس طرح بیان فرمایا: وَ مَاۤ اَمْرُنَاۤ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍۭ بِالْبَصَرِ ﴿۵۰﴾ (پ۲۷،القمر:۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہمارا کام تو ایک بات کی بات ہے جیسے پلک مارنا۔