Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
199 - 882
 نقصان اور نیکی نفع بخش ہے اور صبر کے بغیر گناہ سے چھٹکارا اور نیکی پر ہمیشگی ممکن نہیں اور صبر کہتے ہیں خواہش و سستی کے خلاف باعِثِ دِینی کے استعمال کو، تو اس اعتبار سے صبر نصف ایمان ہوا، اسی وجہ سے سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی دونوں کو ایک جگہ جمع فرمایا، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: ”یقین اور صبر ان چیزوں میں سے ہیں جو بہت تھوڑی مقدار میں تمہیں عطا کی گئیں ہیں ۔“(1) 
٭…اعتبارِثانی: چونکہ ایمان کا اِطْلاق کبھی اعمال سے ظاہر ہونے والے احوال پر بھی کیا جاتا ہے اور اس وقت بندے کے تمام اعمال کی دو قسمیں کی جاتی ہیں:(۱)…جو دنیا وآخرت میں اسے نفع دے (۲)…جو دونوں جہاں میں نقصان پہچائے۔ نقصان پہنچانے والی قسم بندے کے لئے حالَتِ صبر ہے اور نفع دینے والی حالَتِ شکر،لہٰذا  شکر بھی ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن ہوا جیساکہ اعتبارِاول میں یقین ایک رکن ہے۔اسی لئے حضرت سیِّدُنا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا کہ ایمان کے دو حصے ہیں:(۱)…صبر (۲)…شکر۔ یہی الفاظ حُضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مرفوعاً(2)ثابت ہیں۔
باعث ہَوٰی کی دو قسمیں:
	بہرحال صبر باعِثِ دینی کے ذریعہ باعِثِ ہوٰی سے رُکنےکا نام ہے اور باعِثِ ہوٰی کی دو قسمیں ہیں: (۱)…خواہش (۲)…غصہ۔ لذیذ چیز طلب کرنے کو خواہش کہتے ہیں اور تکلیف دہ چیز دور کرنے کو غصہ اور روزے میں چونکہ صرف خواہش کی پیروی یعنی پیٹ اور شرم گاہ کی تسکین سے رکنا پایا جاتا ہے اسی لئے رسولِ  اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ ”روزہ نصف صبر ہے۔“(3)اور چونکہ خواہش و غصہ دونوں کی طرف لےجانے والی تمام چیزوں سے رکنا کامل صبر کہلاتا ہے اس اعتبار سے روزہ ایمان کا چوتھائی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… قوت القلوب،الفصل الحادی والثلاثون:کتاب العلم وتفضیلہ…الخ،۱/ ۲۳۵
2…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ95صفحات پر مشتمل  درسی کتاب ”نصاب اُصُولِ حدیث مع اِفاداتِ رضویہ“کے صفحہ78پر مذکور ہے کہ حدیْثِ مرفوع: وہ قول، فعل، تقریر یا صِفَت جس کی نِسبت سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف کی جائے۔
3… سنن الترمذی ، کتاب الدعوات ، باب(۹۲)،۵/ ۳۰۸، حدیث : ۳۵۳۰