Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
198 - 882
 ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچپن میں نماز چھوڑدینے پر سختی تو کی جاتی ہے لیکن آخرت میں اس پر پکڑ نہیں، نہ ہی یہ عمل روز ِمحشر بیان کئے جانے والے نامَۂ اَعمال میں لکھا جاتا ہے۔ہاں اگر بچے کی دیکھ بھال کرنے والا عادل، نیک اور شفیق ہو اور کراماً  کاتبین کا سا طریقہ اختیار کرے تو اس کی اچھائی اور برائی دل میں محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ لکھ بھی لیتا ہے اور اچھائی پر سراہتا اور برائی پر سزا دیتا ہے۔ ہر سرپرست بچے کے ساتھ یہی طریقہ اختیار کرے تو بچہ فِرِشتہ صِفات کا مالک بن جاتا ہے اور اچھی نیت سے ایسی پرورش کرنے والا فَرِشتوں کی مثل رب عَزَّ  وَجَلَّ کا قرب حاصل کرلیتا ہے اور کل بروزقیامت انبیا، مُقَرَّبین اور صِدِّیْقِیْن کے ساتھ ہوگا جیساکہ رحمَتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔“(1)
تیسری فصل:		       صبر نصف ایمان ہے
	جان لیجئے کہ دین میں ایمان کا اطلاق کبھی صرف تصدیقات پر کیا جاتا ہے اور کبھی ان کی وجہ سے ظاہر ہونے والے نیک اعمال پر اور کبھی دونوں پر۔ معارف اور اعمال کے چند ابواب ہیں اور لفظ ایمان چونکہ ان تینوں(یعنی معارف، احوال اور اعمال) کو شامل ہے اس لئے اس کے ستر سے زائد ابواب ہیں اور اس کے ناموں کے اختلاف کو ہم عقائد کے بیان میں چوتھی فصل کے تحت بیان کرچکے ہیں۔
صبر دو اعتبار سے نصف ایمان ہے:
بہرحال ایمان کا اطلاق دو چیزوں پر کئے جانے کی وجہ سے صبر دو اعتبار سے نصف ایمان ہے:
٭…اعتبارِ اوّل: چونکہ ایمان کا اطلاق تصدیقات اور اعمال دونوں پر کیا جاتا ہے تو ایمان کے دو رکن ہوئے: (۱)…یقین اور(۲)…صبر۔
	یقین سے مراد دین کی یقینی مَعْرِفَت ہے جو بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہدایت سے ہی حاصل ہوتی ہے اور صبر سے مراد معرفت کے مطابق عمل کرنا ہے کیونکہ معرفت بندے کو پہچان کرواتی ہے کہ گناہ باعِثِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن ابی داود،کتاب الادب، باب فی من ضم الیتیم ،۴/ ۴۳۶،حدیث : ۵۱۵۰