کے ان غافلین کی پیروی کرتا ہے جو ایک چیخ(یعنی صور پھونکنے) کے منتظر ہیں کہ انہیں آلے گی جبکہ وہ دنیا کے جھگڑوں میں پھنسے ہوں گے نہ وصیت کرسکیں گے نہ اپنے گھر جاسکیں گے، بیماری ان غافلوں کے پاس موت کا پیغام لے کر آتی ہے لیکن وہ غفلت سے بیدار نہیں ہوتے، بڑھاپا موت کا قاصد بن کر ان کے پاس ا ٓتا ہے پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ہائے افسوس ان بندوں پرجب ان کےپاس کوئی رسول آتا ہے تو اس سے ٹھٹھا(مذاق)ہی کرتے ہیں، کیا وہ گمان کربیٹھے کہ ہمیشہ دنیا میں رہیں گے؟کیا انہوں نے نہ دیکھا ہم(اللہ عَزَّ وَجَلَّ)نے ان سے پہلے کتنی ہی سنگتیں(قومیں) ہلاک فرمائیں کہ وہ اب ان کی طرف پلٹنے والے نہیں؟ وہ کیا سوچتے ہیں مردے ان کے پاس سے گزرچکے اور وہ معدوم ہیں؟ خبردار! سب نے ہمارے حضور حاضر ہونا ہے۔ان بندوں کے پاس جب کبھی ان کے رب کی نشانیوں سے کوئی نشانی آتی تواس سے اعراض کرتے اور یہ سب اس لئے کہ ہم نے ان کے آگے اور ان کے پیچھے ایک دیوار بنادی اور انہیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انہیں کچھ نہیں سوجھتا اور انہیں کچھ فرق نہیں پڑتا(اے محبوب!) آپ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان لانے والے نہیں۔
یہ تمام بحث عُلُومِ مُکَاشَفہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو عُلومِ معاملہ سے اعلیٰ ہے۔ اب ہم مقصود کی طرف چلتے ہیں۔
بچہ اور مجنون آزاد ہیں:
یہ بات ظاہر ہوگئی کہ باعِثِ دینی اور باعِثِ ہوٰی کا باہم مقابلے کے لئے کھڑے ہونے کو صبر کہتے ہیں اور انسان پر کراماً کاتبین مُقَرَّر ہیں اس لئے یہ مقابلہ انسان ہی کا خاصّہ ہے۔ کراماً کاتبین بچوں اور مجنون کی خطائیں نہیں لکھتے کیونکہ ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے فرشتوں کی طرف متوجہ ہونا اچھائی کہلاتا ہے اور ان سے منہ موڑلینا برائی اور بچے اور مجنون کے لئے استفادہ ممکن ہی نہیں لہٰذا ان کا متوجہ ہونا اور اعراض کرنا بھی متصور نہیں جبکہ فرشتے اچھائی یا برائی اسی کے لئے لکھتے ہیں جو ان پر قادر بھی ہو اور اس سے کوئی فعل بھی صادر ہو۔
میرے خیال میں بعض اوقات سمجھدار ی کی بدولت بچپن نورِہدایت سے چمک اٹھتا ہے اور بالغ ہونے تک بڑھتا چلا جاتا ہے جیساکہ روشنی ظاہر تو صُبْح ہی ہوجاتی ہے لیکن سورج نکلنے تک پھیلتی رہتی ہے۔ یہ نور ہدایتِ قاصِرہ کہلاتا ہے جو آخرت کے نقصان کی تو پہچان نہیں کرواتا لیکن دنیاوی نقصان سے آگاہ کردیتا