٭…دوسری مرتبہ:رِحم کی تنگ جگہ سے نکل کر وسیع وعریض دنیا میں آجاتا ہے۔
قیامَتِ صُغْرٰی کے مقابلے میں قیامَتِ کُبْرٰی اور اس دنیا کی وُسْعَت کے مقابلے میں موت کے بعد کی دنیا کی وُسعت ایسی ہی ہے جیسے رحم کے مقابلے میں دنیا کی وُسعت بلکہ موت کے بعد کی دنیا اس سے وسیع ہے۔
چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: مَا خَلْقُکُمْ وَلَا بَعْثُکُمْ اِلَّا کَنَفْسٍ وَّاحِدَۃٍ (پ۲۱، لقمٰن:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تم سب کا پیدا کرنا اور قیامت میں اٹھانا ایسا ہی ہے جیسا ایک جان کا۔
دوسری مرتبہ کی پیدائش بھی پہلی ہی کی طرح ہے بلکہ پیدائش کو دو کے ساتھ مخصوص کرنادرست نہیں کہ ربّ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ نُنۡشِئَکُمْ فِیۡ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۶۱﴾ (پ۲۷، الواقعة:۶۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور تمہاری صورتیں وہ کردیں جس کی تمہیں خبر نہیں۔
قیامتِ کُبْرٰی کا انکار کیوں کر ممکن ہے!
قیامتِ صغْرٰی و کبْرٰی کا اقرار کرنے والا حاضر وغیب جاننے والے پر ایمان اور ظاہری اور پوشیدہ چیزوں پر یقین رکھتا ہے جبکہ قیامَتِ کُبْرٰی کا انکار کرنے والا کانی آنکھ سے صرف ظاہری عالَم پر نظر رکھے ہوئے ہے اوروہ جاہل، گمراہ اور کانے دجال کا پیروکار ہے۔ تو اے مسکین تیری غفلت کس قدر بڑھ چکی ہے ہم سبھی غافل ہیں، یہ مصائب وآلام تیرے سامنے ہیں پھر بھی اگر جہالت و گمراہی کے سبَب قیامَتِ کُبْرٰی پر ایمان نہیں لاتا تو کیا قیامَتِ صُغْرٰی کا آنا تیرے لئے کافی نہیں؟ کیا سرکارِدوعالَم،نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان:”نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے۔“(1) تیرے کانوں تک نہیں پہنچا؟ موت کے وقت شہنشاہِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو دعا فرمائی:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! محمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پر سکراتِ موت آسان فرما۔“(2)کیا اس کاتجھے علم نہیں؟ کیا تجھ میں شرم نہیں کہ موت کو اپنے سے بہت دور گمان کر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الزھد لابن مبارک، مارواہ نعیم بن حماد، باب فی ذکر الموت،حدیث : ۱۴۸، ص ۳۷
2… سنن الترمذی ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی تشدید الموت ،۲/ ۲۹۴، حدیث : ۹۸۰،بتغیرقلیل