ہڈیاں جب گل سڑ جاتی ہیں تو پہاڑ غبار بناکر اڑا دیئے جاتے ہیں، موت کے وقت جب دل پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو دھوپ لپیٹ دی جاتی ہے، جب کان، آنکھ اور دیگر حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو تارے جھڑ جاتے ہیں، جب دماغ پھٹتا ہے تو آسمان پھٹ جاتا ہے، موت کی تکلیف کے سبب جب پسینہ بہتا ہے تو گویا سمندر بہا دیے جاتے ہیں۔ تجھے سواری کا کام دینے والی پنڈلیوں کو جب ایک دوسرے کے ساتھ ملایا جاتا ہے تو گویا وہ حامِلہ اونٹنیوں کی بھاری ٹانگوں کی طرح ہوجاتی ہیں اور جب رو ح جسم سے جدا ہوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا زمین ہموار کردی گئی حتّٰی کہ جو کچھ اس میں تھا سب باہر نکال دیا اور خالی ہوگئی۔
بہرحال موت کی تمام حالتوں اور تکالیف کا مُوازَنہ کر کے اپنا کلام لمبا نہیں کرنا چاہتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ موت تجھ پر قیامَتِ صُغْرٰی قائم کردے گی، اس کے باوجود قیامَتِ کُبْرٰی میں جو کچھ تیرے یا کسی اور کے ساتھ ہونا ہے ہوکر رہے گا۔ (موت اس لئے قیامَتِ صُغْرٰی ہے کہ) کسی اور کے لئے تاروں کا باقی رہنا تجھے کچھ فائدہ نہیں دیتا، جن حواس کے ذریعہ تاروں کو دیکھ کر نفع حاصل کرتا تھا وہ جَھڑچکے اور جس کی آنکھیں نہ ہوں اس کے لئے دن رات اور سورج کا روشن ہونا یا اس کو گہن لگنا برابر ہے کہ اس کے حق میں ایک ہی مرتبہ ہمیشہ کے لئے گہن لگ چکا اب سورج کا روشن ہونا غیر کے حق میں ہے۔ یونہی جس کا سر پھٹ جائے اس کا آسمان پھٹ جاتا ہے کیونکہ آسمان کو دماغ سے تعبیر کیا گیا تھا اور جس کا سر نہ ہو اس کا آسمان نہیں تو کسی اور کا آسمان اسے کیوں نفع دے گا؟ یہ قیامَتِ صُغْرٰی ہے۔ گھبراہٹ اور دہشت تو اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جائے گی جب قیامَتِ کُبْرٰی قائم ہوگی، کوئی اِمتِیاز نہیں کیا جائے گا، زمین و آسمان مٹ جائیں گے اور پہاڑ غبار بناکر اڑا دیئے جائیں گے۔
اِنسان کی پیدائش دو مرتبہ ہے:
جان لیجئے کہ اگرچہ ہم نے قیامَتِ صُغْرٰی کی بہت سی علامتیں بیان کیں لیکن پھر بھی بے شمار علامات بیان نہ کرسکے جبکہ یہ قیامَتِ کُبْرٰی کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے وِلادتِ کُبْرٰی کے مقابلے میں وِلادتِ صُغرٰی کیونکہ انسان کی پیدائش دومرتبہ ہے:
٭…پہلی مرتبہ:باپ کی صُلْب اور ماں کے سینے سے نکل کر ماں کے رِحم میں چلاجانا اور مقررہ میعاد تک اس میں رہناہے۔ اس دوران وہ کئی منازل و احوال تبدیل کرتا ہے مثلاً پہلے نطفہ ہوتا ہے پھر علقہ بنتا ہے پھر مضغہ۔