کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا ﴿ؕ۱۴﴾ (پ۱۵، بنی اسرائیل:۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے۔
قیامتِ کبرٰی:
اس میں ساری مخلوق کو جمع کیا جائے گا کوئی بچ نہیں سکے گا، قوم کے سرداروں اور رئیسوں سے بھی حساب لیا جائے گا اور پرہیزگاروں کو جنت اور گنہگاروں کو جہنم میں گروہ در گروہ بھیجا جائے گا۔
موت کی حالت قیامَتِ صغْرٰی ہے اور اس میں قیامَتِ کبرٰی کی تمام ہولناکیاں پائی جاتی ہیں مثلاً زمین میں زلزلہ وغیرہ آنا کیونکہ موت کے وقت انسان جہاں ہوتا ہے خاص اسی جگہ زلزلہ آتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ شہر کے کسی حصہ میں زلزلہ آجائے تو کہا جاتا ہے کہ فلاں زمین (یعنی شہر) میں زلزلہ آ گیا اگرچہ اس کے جھٹکے پورے شہر میں محسوس نہ کئے گئے ہوں۔ یونہی کسی ایک انسان کے گھر میں زلزلہ محسوس ہو تو اس کے حق میں زلزلہ ہی شمار کیا جائے گا کیونکہ ساری زمین میں زلزلہ آجائے پھر بھی اسے اس وقت تک نقصان نہیں ہوگا جب تک اس کے اپنے مکان میں اس کے جھٹکے محسوس نہ ہوں، لہٰذا بغیر کسی نقصان کے اس کے حق میں زلزلہ پایا گیا۔
قیامتِ صُغْرٰی اور کُبْرٰی میں مطابَقَت:
جان لو! تم مٹی سے پیدا کئے گئے ہو اور مٹی سے تمہارا حصہ صرف تمہارا بدن ہے دوسرے کا بدن تمہارا حصہ نہیں اور زمین جس پر تم بیٹھتے ہو تمہارے جسم کے لئے ظَرْف ومکان ہے اور تم زمین کے زلزلوں سے ڈرتے ہو کہ اس سے تمہارا جسم کانپنے لگتا ہے جبکہ ہوا کے جھونکے مسلسل آ رہے ہیں لیکن تم ان سے خوف زدہ نہیں کیونکہ ان سے تمہارا جسم نہیں کانپتا۔ بہرحال زمینی زلزلوں میں تمہارا جسم اس لئے کانپتا ہے کہ تمہاری زمین اور مٹی تمہارے جسم کے ساتھ خاص ہے اور زمین کی طرح تمہاری ہڈیاں اس کے پہاڑ، تمہارا سر اس کا آسمان، دل اس کا سورج، کان، آنکھ اور دیگر حواس اس کے تارے، پسینہ اس کا دریا، سمجھ بوجھ اس کے نباتا ت اور یونہی دیگر اعضاء جسم کے درخت ہیں۔ پس جب موت کے سبب جسم کے اعضاء ختم ہوتے ہیں تو گویا زمین تھرتھرادی جاتی ہے، ہڈیاں جب گوشت سے جدا ہوتی ہیں تو زمین اور پہاڑ اٹھا کر دفعۃً چورا کردئیے جاتے ہیں۔