Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
193 - 882
 تاکہ اس سے ہدایت حاصل کرسکے تو بندے کے اس فعل کو اچھائی لکھ دیا جاتا ہے۔
	اِسْترْسال و مجاہدہ: یونہی اِسْترْسال(یعنی سستی وکاہلی) کی صورت میں بندہ الٹی طرف والے فرشتے سے اعراض کرتا اور اس سے مدد طلب کرنا چھوڑ دیتا ہے تو بندے کے اس فعل کو برائی لکھ دیا جاتا ہے اور مجاہدہ کی حالت میں فرشتے سے مدد طلب کرتا ہے تو بندے کے لئے اچھائی لکھ دی جاتی ہے۔
کراماً کاتبین کہنے کی وجہ:
	چونکہ اچھائیاں اور برائیاں یہی دونوں لکھتے ہیں۔ ”کراماً“ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ بندہ ان کے کرم سے نفع حاصل کرتا ہے کہ تمام فرشتے کرم والے اور حکْمِ خُداوندی بجالانے والے ہیں اور” کاتبین“ انہیں اس لئے کہا جاتا ہے کہ نیکی اور برائی یہی لکھتے ہیں اور دل میں چھپی بات بلکہ اس پوشیدہ بات کو بھی لکھ لیتے ہیں جس کی اطلاع دنیا میں کسی کو نہیں ہوتی۔ ان دونوں فَرِشتوں، ان کی کتابوں، خُطوط، صحیفوں اور ان کے ساتھ تعلق رکھنے والی دیگر تمام اشیاء کا تعلق عالَمِ غیب و عالَمِ مَلَکُوْت سے ہے نہ کہ ظاہری عالَم سے اور جو چیز عالَم ِ ملکوت سے ہو دنیا میں آنکھ اس کا ادراک نہیں کرسکتی۔ ان پوشیدہ صحیفوں کو دو مرتبہ کھولا جائے گا۔ ایک مرتبہ قیامَتِ صُغْرٰی میں دوسری مرتبہ قیامَتِ کُبْرٰی میں۔
قیامتِ صغرٰی:
	اس سے مراد موت کی حالت ہے کہ رسولوں کے سردار، دوعالَم کے مالک ومختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس کا انتقال ہوگیا اس کے لئے قیامت قائم ہوگئی۔(1) 
	اس قیامت میں انسان تنہا ہوتا ہے، اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
وَ لَقَدْ جِئْتُمُوۡنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (پ۷، الانعام:۹۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بےشک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔
	مزید ارشاد فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… موسوعة  الامام ابن ابی الدنیا ، کتاب ذکر الموت ،۵/ ۴۴۷، حدیث : ۷۳ ۱