Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
192 - 882
(2،3)…احوال اور اعمال:
	باعِثِ دینی باعِثِ ہوٰی کے مقابلے میں کھڑا ہو کر مقابلہ کرتا رہے حتّٰی کہ غالب آجائے پھر بندہ خواہش کی مخالَفَت کرتا رہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا گروہ اس کی مدد کرتاہے اور اس کا شمار صبرکرنے والوں میں کیا جاتا ہے اور اگر باعِثِ دینی  کمزور ہو، پیچھے ہٹ جائے حتّٰی کہ خواہش غالب آجائے اور بندہ اسے دور نہ کرسکے تو یہ شیطان کے پیروکاروں میں گنا جاتا ہے۔ پھر جب خواہشات کی پیروی کرنا چھوڑ دے تو یہ اس مقابلے کا نتیجہ ہے اسے عمل بھی کہتے ہیں اور باعِثِ دینی اور باعِثِ ہَوٰی کے مقابلے کو احوال کہتے ہیں، اسی کا نام صبر ہے، اس کے نتیجے میں دنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے خواہشات کی دشمنی اور مخالفت واضح ہوجاتی ہے۔
کراماً  کاتبین میں سیدھی جانب والا افضل ہے:
	اگربندہ اس بات کا یقین رکھے کہ خواہش اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے راستے کی دشمن اور ڈاکو ہے تو باعِثِ دینی کی قوت بڑھ جاتی ہے اور جب وہ مضبوط ہوجائے تو خواہشات کی تکمیل کے بغیر ہی تمام کام انجام پاجاتے ہیں۔ خواہشات سے مکمل چھٹکارااسی وقت ملے گا جب باعِثِ ہَوٰی کی ضد باعثِ دینی قوی ہو اور خواہشات کے برے انجام کا پختہ یقین ہو۔ مقرر کردہ دونوں فَرِشتے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم سے ان دونوں قوتوں کے کفیل ہیں انہیں اسی لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ دونوں فرشتے کراماً  کاتبین ہیں جوہر انسان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جب تم نے جان لیا کہ سیدھی راہ دکھانے والے فرشے کا مرتبہ قوت دینے والے فرشتے سے اعلیٰ ہے تو یہ بات بھی پوشیدہ نہ رہی کہ سیدھی جانب جوکہ دونوں جانبوں میں افضل ہے اعلیٰ مرتبے والے کے سپرد کی جائے لہٰذا وہ سیدھی جانب والا ہوگیا اور دوسرا بائیں جانب والا۔
کراماً کاتبین کے ساتھ انسان کا معاملہ:
	غفلت و فکر اور اِسْتِرْسال و مجاہَدے کی صورت میں بندے کی چند حالتیں ہیں:
	غفلت و فکر: غفلت کی وجہ سے بندہ سیدھی طرف والے فَرِشتے سے اِعراض کرتا اور بُرائی سے پیش آتا ہے تو بندے کی اس حرکت کو برائی لکھ دیا جاتا ہے اور فکر کی حالت میں فَرِشے کی طرف متوجہ ہوتا ہے