Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
191 - 882
 یہ دونوں صفات سیدھا راستہ دکھانے والے فرشتے کی بدولت حاصل ہوتی ہیں۔
	جانور کو مَعْرِفَت عطا کی گئی نہ معاملات کے انجام کی پہچان وہ صرف نفسانی خواہش  پوری کرنے میں مگن رہتاہے اسی وجہ سے وہ صرف ذائقہ دار چیزوں کی تلاش میں رہتاہے اورنفع بخش کڑوی دوائی کو نہ طلب کرتاہے نہ پہچانتا ہے۔
انسان فَرِشتے کی حفاظت میں:
	انسان نورِہدایت کے ذریعہ جان لیتا ہے کہ خواہشات کی پیروی کرنے والوں کا انجام برا ہے لیکن صرف یہ جان لینا ہی کافی نہیں جب تک نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچنے پر قدرت نہ ہو۔ کتنی ہی نقصان دہ چیزوں کو انسان جانتا ہے لیکن انہیں دور کرنے کی قدرت نہیں رکھتا جیسے بیماری کا لاحق ہوجانا۔لہٰذا انسان ایسی قوت و قدرت کا محتاج ہے جس کے ذریعہ خواہشات سے مقابلہ کرسکے حتّٰی کہ نفس ان کی دشمنی سے محفوظ ہوجائے۔ یہی وجہ ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کے ساتھ ایک فِرِشتہ مقرر کیا ہے جو اسے (برے کاموں سے) روکتا ہے اس کی تائید کرتا اور باطنی لشکر کے ذریعہ اسے قوت پہنچاتا ہے اور اس لشکر کو خواہشات کے لشکر کے مقابلے میں کھڑا کردیتا ہے۔ کبھی یہ لشکر کمزور ہوتا ہے اور کبھی طاقتور اور یہ سب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد و تائید کے مطابق ہوتا ہے جیساکہ نورِہدایت مخلوق میں اس قدر کم زیادہ ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔
باعث دینی اور باعث ہَوٰی:
	خواہشات کو جڑ سے اکھیڑ کر ان پر غالب آکر انسان اور جانوروں میں فرق کرنے والی  قوت کا نام ہم نے باعِثِ دینی(یعنی نیکی کی طرف مائل کرنے والی قوت)رکھ دیا اور خواہشات کی تکمیل کی طرف لے جانے والی قوت کا نام باعِثِ ہَوٰی رکھ دیا۔
	ذِہن نشین رکھئے کہ باعِثِ دینی اور باعِثِ ہَوٰی کے درمیان جھگڑا چلتا رہتا ہے اور اس جنگ کا میدان بندے کا دل ہے۔ باعِثِ دینی کے مددگار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے بھیجے گئے فَرِشتے ہیں اور باعِثِ ہَوٰی کے مددگار  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دُشمن شیاطین ہیں۔