ایمان کا نام بعض اوقات صرف معارف پر بولاجاتا ہے اور کبھی تمام اُمور پر جیساکہ ہم اسے عقائد کے بیان میں چوتھی فصل کے تحت ذکر کرچکے ہیں۔ یونہی صبر معارف اور احوال کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ صبر اسی کا نام ہے اور عمل اس سے نکلنے والا پھل ہے۔ اس بات کا جاننا ملائکہ اور جن و انس کی ترتیب و کیفیت کی مَعْرِفَت کے بعد ہی ممکن ہے۔
صبر انسان کا خاصہ ہے جانوروں اور فَرِشتوں میں یہ متصوَّر نہیں کیونکہ جانور انسان سے کم تراورفَرِشتے اس سے اعلیٰ ہیں۔ اس کی تفصیل یہ کہ نفسانی خواہش جانوروں پر مسلط کردی گئی اور انہیں اس کے سپرد کردیا گیا ہے۔ ان کی تمام تر حَرکات و سکنات کا باعث صرف نفسانی خواہش ہوتی ہے اور ان میں نفسانی خواہش سے مقابلہ کرنے اور اس کی پیروی سے روکنے والی وہ قوت ہی نہیں جسے صبر کہتے ہیں۔
فِرِشتہ، انسان اور جانور میں فرق:
فَرِشتےچونکہ صرف دربارِ الٰہی کے مشتاق ، اس کے قُرب سے مسرور ہیں اور خواہِشِ نفس سے محفوظ ہیں جو انہیں بارگاہِ الٰہی سے کسی غیر کی طرف پھیر ے حتّٰی کہ وہ اس پر غَلَبہ پانے اور پھر سے دربارِالٰہی کی طرف پلٹنے کے لئے کسی لشکر کے محتاج ہوں۔
انسان کو بہرحال ناقص پیدا کیا گیا ہے، بچپن میں وہ جانوروں کی مثل ہوتا ہے کہ غذا کا محتاج اور صرف اسی کا خواہشمند ہوتا ہے پھر اس میں کھیل کود اور بننے سنورنے کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے اس کے بعد جیسے جیسے بڑھتا چلا جاتا ہے اس میں نکاح کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ بچپن میں انسان میں صبر کی قوت نہیں ہوتی کیونکہ صبر کہتے ہیں دو قوتوں کا تقاضے اور مُطالَبے میں مختلف ہونے کے سبب باہم مقابلے میں کھڑا ہونا جبکہ بچے میں جانورکی مانندصرف ایک ہی قوت ہوتی ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے فضل و کرم سے انسان کو عزت بخشی اور اسے جانوروں سے بہتر دَرَجہ عطا فرمایااور جب وہ بُلُوغت و کمال کے قریب ہوتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے دوفَرِشتے مقرر فرما دیتا ہے ان میں سے ایک اسے سیدھا راستہ دکھاتا ہے اور دوسرا قوت بخشتا ہے لہٰذا انسان ان دو فَرشتوں کی بدولت جانوروں سے ممتاز ہوجاتا ہے اور ان دو صفتوں کے ساتھ خاص ہوجاتا ہے: (۱)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پہچان۔ (۲)…مُعامَلات کے انجام کی پہچان۔