Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
19 - 882
	اس کا جواب یہ ہے کہ بندے کو اختیار ہے اور یہ اس قول کے خلاف بھی نہیں کہ”یقیناً ہر شے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیدا فرمانے سے ہے“ بلکہ اختیار بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا عطاکردہ ہے  اور بند ہ اپنے اختیا ر میں بھی لاچار ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب ہاتھ کو صحیح وسلامت پیدا فرماتا ہے اور لذیذ کھانا پیدا فرماتا ہے اور معدے میں کھانے کا شوق اور دل میں یہ علم بھی پیدا فرماتا ہے کہ یہ کھانا خواہش کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے اور اس کھانے کے بارے میں مختلف خیالات پیدا فرماتا ہے جیسے یہ تردُّد پیدا فرماتا ہے کہ خواہش کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ نقصان دہ تو نہیں؟ اور کھانے اور اس کے درمِیان کوئی رُکاوٹ تو نہیں؟ پھر یہ علم بھی پیدا فرماتا ہے کہ کوئی رکاوٹ نہیں، ان اسباب کے جمع ہونے پر کھانے کا ارادہ پختہ ہوتا ہے۔ پس مختلف متردِّد خیالات اور کھانے کی خواہش پیدا ہونے کے بعد جو ارادے کی پختگی حاصل ہوتی ہے اسے کہا جاتا ہے اِختیار اور اِختیار کا حُصُول اسباب کے مکمل ہوتے ہی ضروری ہو تا ہے۔ پس جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تخلیق سے ارادہ پختہ ہوجاتا ہے پھر صحیح وسلامت ہاتھ لامُحالَہ کھانے کی طر ف بڑھتا ہے کیونکہ ارادہ اور قدرت حاصل ہونے کے بعد فعل کا حاصل ہونا ضروری ہے،لہٰذا حرکت پیدا ہوجاتی ہے۔
	پس ارادے کی پختگی اورقدرت کے بعد حرکت بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیدا فرمانے سے ہوتی ہے اور پختہ ارادہ اور قدرت بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی پیدا کرتا ہے اور پختہ ارادہ سچی خواہش ہونے اور کھانے کے درمیان کسی رکاوٹ نہ ہونے کا علم ہونے کے بعد ہوتاہے اور ان دونوں کا خالق بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہے لیکن ان اَفعال میں سے بعض بعض پر اسی ترتیب سے مرتب ہوتے ہیں جس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا دستور مخلوق میں جاری ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ لَنۡ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللہِ تَبْدِیۡلًا ﴿۲۳﴾ (پ۲۶،الفتح:۲۳) 	ترجمۂ کنز الایمان:اور ہرگز تم اللہ کا دستور بدلتا نہ پاؤگے۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہاتھ میں لکھنے کے لئے حرکت اس وقت تک پیدا نہیں فرماتا جب تک اس میں صفتِ قدرت، حیات اور پختہ ارادہ پیدا نہیں فرماتا اور پختہ ارادہ  اس وقت تک پیدانہیں فرما تا جب تک خواہش اور میلانِ نفس پیدا نہیں فرماتا اور یہ میلان اس وقت تک نہیں اُبھرتا جب تک اس بات کا علم پیدا نہ کرے کہ یہ میلان ابتدا یا انتہا میں نفس کے موافق ہے اور علم کو بھی قدرت، ارادہ اور علم کی طرف لوٹنے والے دیگر اَسباب کے بغیر پیدا نہیں فرماتا۔ پس علم اورطبعی میلان ہمیشہ پختہ ارادے کے پیچھے رہتے ہیں اور قدرت اور