”عِلَاوَۃ“کہلاتا ہے ۔یہاں ”عِدْلَان“سے مراد نماز اور رحمت اور ”عِلَاوَۃ“ سے مراد ہدایت ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے اس قول میں اس آیتِ مبارَکہ کی طرف اشارہ فرمایا:
اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ﴿۱۵۷﴾ (پ۲، البقرة:۱۵۷)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درودیں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔
(5)…حضرت سیِّدُنا حبیب بن ابوحبیب بلخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیجب بھی یہ آیتِ مبارَکہ:
اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۴۴﴾ (پ۲۳، ص:۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ بے شک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔
تلاوت فرماتے تو روپڑتے اور فرماتے: بہت خوب! خود ہی عطا فرماتا ہے اور اس پر تعریف بھی کرتا ہے۔
(6)…حضرت سیِّدُنا ابودرداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:ایمان کی پختگی حکْمِ الٰہی پر صبراور تقدیر پر راضی رہنے میں ہے۔
صبر کی فضیلت پر یہ نقلی دلائل تھے رہا عقلی دلائل سے سمجھنا تو یہ صبر کی حقیقت اور اس کے معنیٰ کو جانے بغیر ممکن نہیں کیونکہ کسی کی فضیلت و رُتبے کو جاننا اس کی صِفَت کو جاننا ہے اور صفت کی پہچان بغیر موصوف(یعنی اصل شے) کے ممکن نہیں لہٰذا ہم صبر کی حقیقت و معنیٰ بیان کرتے ہیں۔
دوسری فصل: صَبْر کی حقیقت اور اس کا معنٰی
دینی مقامات تین امور پر مشتمل ہیں:
جان لیجئے !صبر دین کا مقام اور نیک لوگوں کی منزلوں میں سے ایک منزل ہے اور دین کے تمام مقامات تین امور پر مشتمل ہیں:(۱)…معارف(۲)…احوال اور(۳)…اعمال ۔
(1)…معارِف:
یہ بنیاد ہیں اور احوال کو پیدا کرتے ہیں اور احوال اعمال کا سبب بنتے ہیں لہٰذا معارف درخت کے تنے کی مثل، احوال اس کی ٹہنیوں کی اور اعمال پھلوں کی مثل ہیں اور یہ اُمور سالکین کی تمام منازل کو شامل ہیں۔